حدیث نمبر: 4010
وَعَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْمُزَنِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ثَلَاثٌ مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ لَا يَدَعُهُنَّ النَّاسُ - أَوْ لَا يَتْرُكُهُنَّ النَّاسُ : الطَّعْنُ فِي النَّسَبِ ، وَالنِّيَاحَةُ ، وَقَوْلُهُمْ : إِنَّا مُطِرْنَا بِنَوْءِ كَذَا ، وَنَجْمِ كَذَا " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عوف بن مالک مزنی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تین چیزیں زمانہ جاہلیت سے تعلق رکھتی ہیں جنہیں لوگ نہیں چھوڑیں گے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) لوگ انہیں ترک نہیں کریں گے نسب میں طعن کرنا نوحہ کرنا اور ان کا یہ کہنا کہ فلاں ستارے کی وجہ سے اور فلاں ستارے کی وجہ سے ہم پر بارش نازل ہوئی ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی کثیر بن عبداللہ مزنی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4010
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (19/17) اخرجه الامام البزار فى المسند (798)»