مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجنائز— جنائز کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَا يُعَدُّ فَرَطًا أَوْ مُصِيبَةً . باب: اس چیز کا بیان جسے آگے بھیجی جانے والی چیز یا مصیبت شمار کیا جائے ؟
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ : كَشَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتْرًا ، وَفَتَحَ بَابًا فِي مَرَضِهِ ، فَنَظَرَ إِلَى النَّاسِ يُصَلُّونَ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ فَسُرَّ بِذَلِكَ ، وَقَالَ : " الْحَمْدُ لِلَّهِ ، إِنَّهُ لَمْ يَمُتْ نَبِيٌّ حَتَّى يَؤُمَّهُ رَجُلٌ مِنْ أُمَّتِهِ " ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ فَقَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، مَنْ أُصِيبَ مِنْكُمْ بِمُصِيبَةٍ مِنْ بَعْدِي فَلْيَتَعَزَّ بِمُصِيبَتِهِ بِي عَنْ مُصِيبَتِهِ الَّتِي تُصِيبُهُ ; فَإِنَّهُ لَنْ يُصِيبَ أُمَّتِي مِنْ بَعْدِي بِمِثْلِ مُصِيبَتِهِمْ بِي " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ نَجِيحٍ الْمَدَنِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پردہ ہٹایا اور دروازہ کھولا یہ آپ کی بیماری کے دوران کی بات ہے آپ نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز ادا کر رہے تھے ۔ آپ اس بات پر خوش ہوئے اور ارشاد فرمایا : ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے کسی بھی نبی کا انتقال اس وقت تک نہیں ہوا جب تک اس کی امت کے کسی فرد نے اس کی امامت نہیں کی پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور ارشاد فرمایا : ” اے لوگو ! تم میں سے جس بھی شخص کو میرے بعد کوئی مصیبت لاحق ہو ، تو وہ اپنی اس لاحق ہونے والی مصیبت کے وقت میرے حوالے سے مصیبت کے ذریعے خود کو سہارا دے ، کیونکہ میری امت کو میرے بعد کوئی ایسی مصیبت لاحق نہیں ہو گی ، جو اس مصیبت کی مانند ہو ، جو انہیں میرے حوالے سے لاحق ہوئی ہو گی“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبیداللہ بن جعفر بن نجیح مدنی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔