مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجنائز— جنائز کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَا يُعَدُّ فَرَطًا أَوْ مُصِيبَةً . باب: اس چیز کا بیان جسے آگے بھیجی جانے والی چیز یا مصیبت شمار کیا جائے ؟
حدیث نمبر: 4005
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مِنْكُمْ فَرَطٌ لَمْ يَدْخُلِ الْجَنَّةَ إِلَّا تَصْرِيدًا " ، قَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا لِكُلِّنَا فَرَطٌ ؟ قَالَ : " أَوَلَيْسَمِنْ فَرَطِ أَحَدِكُمْ أَنْ يَفْقِدَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم میں سے جس کا کوئی بچہ فوت نہ ہوا ہو ، وہ جنت میں داخل نہیں ہو گا ، البتہ ” تصرید “ ( یعنی تھوڑا ہونے ) کا معاملہ مختلف ہے ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم میں سے ہر ایک کا بچہ تو فوت نہیں ہوا ہو گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا تم میں سے کوئی ایک یہ چیز آگے نہیں بھیجتا ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو غیر موجود پاتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔