مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجنائز— جنائز کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ مَاتَ لَهُ ابْنَانِ . باب: جس شخص کے دو بچے فوت ہو جائیں
وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَلَغَهُ أَنَّ امْرَأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ مَاتَ ابْنٌ لَهَا فَجَزِعَتْ عَلَيْهِ ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ أَصْحَابُهُ ، فَلَمَّا بَلَغَ بَابَ الْمَرْأَةِ قِيلَ لِلْمَرْأَةِ : إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرِيدُ أَنْ يَدْخُلَ يُعَزِّيهَا ، فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " أَمَا أَنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّكِ جَزِعْتِ عَلَى ابْنِكِ ! ! " قَالَتْ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، مَا لِيَ لَا أَجْزَعُ وَأَنَا رَقُوبٌ لَا يَعِيشُ لِي وَلَدٌ ! ! فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّمَا الرَّقُوبُ الَّذِي يَعِيشُ وَلَدُهَا ، إِنَّهُ لَا يَمُوتُ لِامْرَأَةٍ مُسْلِمَةٍ أَوِ امْرِئٍ مُسْلِمٍ نَسَمَةٌ - أَوْ قَالَ : ثَلَاثَةٌ مِنْ وَلَدِهِ - يَحْتَسِبُهُمْ إِلَّا وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ " ، فَقَالَ عُمَرُ وَهُوَ عَنْ يَمِينِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : بِأَبِي وَأُمِّي ، وَاثْنَيْنِ ؟ قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَاثْنَيْنِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا بریده رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا آپ کو یہ اطلاع ملی کہ انصار سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون کا بیٹا فوت ہو گیا ہے ، اور وہ اس پر رو رہی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور آپ کے ساتھ آپ کے اصحاب بھی تھے ، جب آپ اس خاتون کے دروازے پر پہنچے تو اس خاتون کو بتایا گیا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تعزیت کے لئے تشریف لانے لگے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں داخل ہوئے آپ نے ارشاد فرمایا : مجھے یہ پتہ چلا ہے کہ تم اپنے بیٹے پر رو رہی ہو ؟ اس خاتون نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! میں کیوں نہ روؤں جبکہ میں ایک ایسی رقوب عورت ہوں کہ میرا کوئی بچہ زندہ نہیں رہتا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : رقوب وہ ہوتی ہے ، جس کا بچہ زندہ رہ جائے جس بھی مسلمان عورت یا مسلمان مرد کا ایک بچہ فوت ہو جائے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) اس کی اولاد میں سے تین بچے فوت ہو جائیں اور وہ ان پر ثواب کی امید رکھے تو اس کے لئے جنت واجب ہو جاتی ہے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جو اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں طرف موجود تھے انہوں نے عرض کی : میرے ماں باپ قربان ہوں اگر دو ( بچے فوت ہوئے ہوں ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر دو ہوئے ہوں ( تو بھی یہی اجر و ثواب حاصل ہو گا ) ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔