حدیث نمبر: 398
وَعَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " ثَلَاثَةٌ لَا يُسْأَلُ عَنْهُمْ : رَجُلٌ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ وَعَصَى إِمَامَهُ وَمَاتَ عَاصِيًا ، وَأَمَةٌ أَوْ عَبْدٌ أَبَقَ مِنْ سَيِّدِهِ فَمَاتَ ، وَامْرَأَةٌ غَابَ عَنْهَا زَوْجُهَا وَقَدْ كَفَاهَا أَمْرَ الدُّنْيَا فَتَبَرَّجَتْ بَعْدَهُ . وَثَلَاثَةٌ لَا يُسْأَلُ عَنْهُمْ : رَجُلٌ نَازَعَ اللَّهَ رِدَاءَهُ ; فَإِنَّ رِدَاءَهُ الْكِبْرُ ، وَإِزَارَهُ الْعِزُّ ، وَرَجُلٌ كَانَ فِي شَكٍّ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ ، وَالْقَنُوطُ مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، فَجَعَلَهُمَا حَدِيثَيْنِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” تین افراد ہیں ، جن کے بارے میں سوال نہیں کیا جائے گا وہ شخص جو جماعت سے الگ ہو جائے ، اپنے امام کی نافرمانی کرے ، اور گناہ گار ہونے کے عالم میں مر جائے ، وہ کنیز یا غلام ، جو اپنے آقا کو چھوڑ کر مفرور ہو جائے ، اور اسی حالت میں مر جائے ، وہ عورت جس کا شوہر اس کے پاس موجود نہ ہو ، اور شوہر نے اُس عورت کی ضروریات فراہم کی ہوئی ہوں ، تو شوہر کی غیر موجودگی میں وہ زینت کا اظہار کرے ، تین افراد ہیں ، جن کے بارے میں سوال نہیں کیا جائے گا ، وہ شخص ، جو اللہ تعالیٰ کی چادر کے بارے میں اُس کا مقابلہ کرتا ہے ، اُس کی چادر کبریائی ہے اور اس کا تہبند ، عزت ( غلبہ ) ہے وہ شخص ، جو اللہ تعالیٰ کے حکم کے بارے میں شک کرتا ہے ، اور وہ شخص ، جو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس ہو “ ۔
یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے انہوں نے اسے دو مختلف احادیث کے طور پر نقل کیا ہے اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 398
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الامام احمد فى مسنده 19/6»