مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجنائز— جنائز کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي مَوْتِ الْأَوْلَادِ . باب: اولاد کی موت کا بیان
وَعَنْ زُهَيْرِ بْنِ عَلْقَمَةَ قَالَ : جَاءَتِ امْرَأَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ابْنٍ لَهَا مَاتَ فَكَانَ الْقَوْمُ عَنَّفُوهَا فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَدْ مَاتَ لِي ابْنَانِ مُنْذُ دَخَلْتُ فِي الْإِسْلَامِ سِوَى هَذَا . فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَقَدِ احْتَظَرْتِ مِنَ النَّارِ بِحِظَارٍ شَدِيدٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ قُلْتُ : وَيَأْتِي لَهُ حَدِيثٌ آخَرُ فِي الْبَابِ الَّذِي بَعْدَ هَذَا ، إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ¤زہیر بن علقمہ بیان کرتے ہیں : انصار سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے بیٹے کے حوالے سے حاضر ہوئی جس کا انتقال ہو گیا تھا لوگوں نے اس خاتون کو ڈانٹا تو اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے دو بیٹے اس سے پہلے فوت ہو چکے ہیں جو میرے اسلام قبول کرنے کے بعد فوت ہوئے ہیں اور اس کے علاوہ ہیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم نے جہنم سے بچنے کے لئے مضبوط بچاؤ ( رکاوٹ ) تیار کر لی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ، اس کے بعد والے باب میں آگے چل کر ایک اور حدیث آئے گی ، اگر اللہ نے چاہا ۔