حدیث نمبر: 3977
وَعَنْ حَبِيبَةَ أَنَّهَا كَانَتْ عِنْدَ عَائِشَةَ ، فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى دَخَلَ عَلَيْهَا فَقَالَ : " مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ يَمُوتُ لَهُمَا ثَلَاثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ إِلَّا جِيءَ بِهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يُوقَفُوا عَلَى بَابِ الْجَنَّةِ ، فَيُقَالُ لَهُمْ : ادْخُلُوا الْجَنَّةَ . فَيَقُولُونَ : حَتَّى يَدْخُلَ آبَاؤُنَا . فَيُقَالُ لَهُمْ : ادْخُلُوا الْجَنَّةَ أَنْتُمْ وَآبَاؤُكُمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا يَزِيدَ بْنَ أَبِي بَكْرَةَ ; وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَأَعَادَهُ بِإِسْنَادٍ آخَرَ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، وَلَيْسَ فِيهِ يَزِيدُ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤
محمد محی الدین

سیده حبیبه رضی اللہ عنہا نامی خاتون بیان کرتی ہیں : وہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاس موجود تھیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے آپ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے آپ نے ارشاد فرمایا : جن بھی مسلمان میاں بیوی کے تین بچے بالغ ہونے سے پہلے فوت ہو جائیں تو انہیں قیامت کے دن لایا جائے گا یہاں تک کہ جنت کے دروازے پر کھڑا کیا جائے گا ، تو ان سے کہا: جائے گا تم لوگ جنت میں داخل ہو جاؤ تو وہ کہیں گے جی نہیں جب تک ہمارے ماں باپ داخل نہیں ہوتے تو ان سے کہا: جائے گا تم اور تمہارے ماں باپ جنت میں داخل ہو جاؤ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں صرف یزید بن ابوبکرہ کا معاملہ مختلف ہے ۔ ابن حبان نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔ انہوں نے اس روایت کو ایک اور سند کے ساتھ دوبارہ بھی نقل کیا ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں اور اس کی سند میں یزید بن ابوبکرہ نامی راوی نہیں ہے باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 3977
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح