مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجنائز— جنائز کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي مَوْتِ الْأَوْلَادِ . باب: اولاد کی موت کا بیان
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَمَّا مَاتَ ابْنُ آدَمَ قَالَ آدَمُ لِامْرَأَتِهِ حَوَّاءَ : إِنَّهُ قَدْ مَاتَ ابْنُكِ . قَالَتْ : وَمَا الْمَوْتُ ؟ قَالَ : لَا يَطْعَمُ ، وَلَا يَشْرَبُ ، وَلَا يَبْطِشُ ، وَلَا يَمْشِي . فَلَمَّا قَالَ ذَلِكَ صَرَخَتْ فَقَالَ : الرَّنَّةُ عَلَيْكِ وَعَلَى بَنَاتِكِ ، وَأَنَا وَبَنِيَّ بُرَآءُ . فَصَارَتِ الْمَوَاتِيمُ عَلَى النِّسَاءِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْحُسَيْنُ بْنُ سَيَّارٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب سیدنا آدم علیہ السلام کے پہلے بچے کا انتقال ہوا تو سیدنا آدم علیہ السلام نے اپنی زوجہ سیدہ حواء رضی اللہ عنہا سے کہا: تمہارا بیٹا مر گیا ہے ۔ انہوں نے دریافت کیا : موت کیا ہوتی ہے ؟ سیدنا آدم علیہ السلام نے فرمایا : اب یہ نہ کچھ کھائے گا ، اور نہ کچھ پیئے گا نہ پکڑے گا نہ چلے گا جب سیدنا آدم علیہ السلام نے یہ بات کہی تو سیدہ حواء رضی اللہ عنہا نے چیخ ماری تو سیدنا آدم علیہ السلام نے کہا: اب تم پر اور تمہاری بیٹیوں پر رونا دھونا مقرر ہو گیا ہے ، اور میں اور میرے بیٹے اس سے لاتعلق ہوں گے تو اس کے بعد خواتین ( کسی میت پر زیادہ ) روتی پیٹتی ہیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حسین بن سیار ہے ، اور وہ متروک ہے ۔