حدیث نمبر: 3954
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ الْفَضْلَ بْنَ عَبَّاسٍ أَنْ يُعِدَّ لَهُ طَهُورًا ، فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَتِهِ ، وَكَانَ إِذَا كَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ تَبَاعَدَ حَتَّى لَا يَكَادَ يُرَى ، فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاجَتَهُ أَقْبَلَ رَاجِعًا ، فَمَرَّ بِامْرَأَةٍ عَلَى قَبْرِ مَيِّتٍ لَهَا وَهِيَ تُعَدِّدُ وَتُعَوِّلُ ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهَا - وَهِيَ لَا تَعْرِفُهُ - فَقَالَ لَهَا : " اتَّقِي اللَّهَ وَاصْبِرِي " . قَالَتْ : يَا عَبْدَ اللَّهِ ، اذْهَبْ لِحَاجَتِكَ . فَقَالَ لَهَا ثَلَاثًا ثُمَّ انْصَرَفَ ، فَجَاءَ فَأَخَذَ الْمَطْهَرَةَ مِنَ الْفَضْلِ ، فَقَامَ الْفَضْلُ فَأَتَى الْمَرْأَةَ ، فَقَالَ لَهَا : مَا قَالَ لَكِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَامَتْ فَقَالَتْ : يَا وَيْلَهَا ، هَذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ؟ فَسَعَتْ حَتَّى لَحِقَتْهُ عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَاللَّهِ مَا عَرَفْتُكَ . فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الصَّبْرُ عِنْدَ الصَّدْمَةِ الْأُولَى " قَالَهَا ثَلَاثًا . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْهُ عَنْ أَنَسٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ عَطِيَّةَ السَّعْدِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ آپ کے وضو کا پانی تیار کریں ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لئے تشریف لے گئے جب آپ قضائے حاجت کے لئے تشریف لے جاتے تھے تو دور چلے جاتے تھے ، یہاں تک کہ آنکھوں سے اوجھل ہو جاتے تھے ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قضائے حاجت کر لی اور آپ واپس تشریف لا رہے تھے تو آپ کا گزر ایک خاتون کے پاس سے ہوا جو اپنے ایک مردہ کی قبر پر بیٹھی ہوئی تھی اور آہ وزاری کر رہی تھی ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس عورت کے پاس ٹھہر گئے وہ عورت آپ کو پہچانتی نہیں تھی ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور صبر سے کام لو اس عورت نے کہا: اے اللہ کے بندے ! تم جاؤ اور جا کے اپنا کام کرو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ اس سے بات کی اور پھر آپ تشریف لے گئے آپ نے سیدنا فضل سے وضو کا پانی حاصل کیا سیدنا فضل اٹھ کر اس عورت کے پاس گئے اور اس سے کہا: اللہ کے رسول نے تمہیں کیا کہا: تھا ، تو وہ عورت کھڑی ہوئی اور بولی: ہائے بربادی یہ اللہ کے رسول تھے میں نے تو انہیں پہچانا ہی نہیں پھر وہ جلدی سے چلتی ہوئی آئی اور مسجد کے دروازے کے پاس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچ گئی اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اللہ کی قسم میں نے آپ کو پہچانا نہیں تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا صبر صدمے کے آغاز میں ہوتا ہے یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں اس کا ایک حصہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن عطیہ سعدی ہے ، اور وہ متروک اور ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 3954
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً