مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجنائز— جنائز کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الصَّبْرِ وَالتَّسَلِّي بِمَوْتِ سَيِّدِنَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . باب: نبی اکرم ﷺ کے وصال کے حوالے سے صبر کرنا اور خود کو تسلی دینا
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبَقِيعِ عَلَى امْرَأَةٍ جَاثِمَةٍ عَلَى قَبْرٍ تَبْكِي ، فَقَالَ لَهَا : " يَا أَمَةَ اللَّهِ ، اتَّقِي اللَّهَ وَاصْبِرِي " . فَقَالَتْ : يَا عَبْدَ اللَّهِ ، إِنِّي أَنَا الْحَرَّى الثَّكْلَى . فَقَالَ : " يَا أَمَةَ اللَّهِ ، اتَّقِي اللَّهَ وَاصْبِرِي " . فَقَالَتْ : يَا عَبْدَ اللَّهِ ، لَوْ كُنْتَ مُصَابًا عَذَرْتَنِي . فَقَالَ : " يَا أَمَةَ اللَّهِ ، اتَّقِي اللَّهَ وَاصْبِرِي " . فَقَالَتْ : يَا عَبْدَ اللَّهِ ، قَدْ أَسْمَعْتَ فَانْصَرِفْ عَنِّي . قَالَ : فَمَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاتَّبَعَهُ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ فَوَقَفَ عَلَى الْمَرْأَةِ فَقَالَ لَهَا : مَا قَالَ لَكِ الرَّجُلُ الذَّاهِبُ ؟ قَالَتْ : قَالَ لِي كَذَا وَكَذَا . قَالَ : فَهَلْ تَعْرِفِينَهُ ؟ قَالَتْ : لَا . قَالَ : ذَاكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . قَالَ : فَوَثَبَتْ مُسْرِعَةً وَهِيَ تَقُولُ : أَنَا أَصْبِرُ ، أَنَا أَصْبِرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الصَّبْرُ عِنْدَ الصَّدْمَةِ الْأُولَى ، الصَّبْرُ عِنْدَ الصَّدْمَةِ الْأُولَى " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرَوَى الْبَزَّارُ طَرَفًا مِنْهُ ، وَفِيهِ بَكْرُ بْنُ الْأَسْوَدِ أَبُو عُبَيْدَةَ النَّاجِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جنت البقیع میں ایک خاتون کے پاس سے گزرے جو ایک قبر کے پاس بیٹھی ہوئی رو رہی تھی ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : اے اللہ کی کنیز ! تم اللہ تعالی سے ڈرو اور صبر سے کام لو اس عورت نے کہا: اے اللہ کے بندے ! میرا بچہ فوت ہو گیا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے اللہ کی کنیز ! تم اللہ سے ڈرو اور صبر سے کام لو اس عورت نے کہا: اے اللہ کے بندے ! اگر تمہیں یہ مصیبت لاحق ہوئی ہوتی تو تم مجھے معذور سمجھتے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے اللہ کی کنیز ! تم اللہ سے ڈرو اور صبر سے کام لو اس عورت نے کہا: اے اللہ کے بندے ! تمہیں بات پتہ چل گئی ہے اب تم میرے پاس سے چلے جاؤ راوی بیان کرتے ہیں : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے ، آپ کے اصحاب میں سے ایک شخص آپ کے پیچھے آ رہا تھا وہ عورت کے پاس ٹھہرا اس نے اس عورت سے دریافت کیا : جو صاحب ابھی گئے ہیں انہوں نے تم سے کیا کہا: تھا اس عورت نے کہا: انہوں نے مجھے یہ یہ کہا: تھا اس شخص نے کہا: کیا تم انہیں پہچانتی ہو ؟ اس عورت نے جواب دیا : جی نہیں اس شخص نے کہا: وہ اللہ کے رسول تھے راوی بیان کرتے ہیں : تو وہ عورت تیزی سے اٹھ کر آئی اور بولی: میں صبر سے کام لیتی ہوں میں صبر سے کام لیتی ہوں یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : صبر صدمے کے آغاز میں ہوتا ہے صبر صدمے کے آغاز میں ہوتا ہے “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ امام بزار نے اس روایت کا ایک حصہ نقل کیا ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی بکر بن اسود ابوعبیدہ ناجی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔