حدیث نمبر: 3944
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى : الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُمْ مُصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ أُولَئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَوَاتٌ مِنْ رَبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ قَالَ : أَخْبَرَ اللَّهُ - جَلَّ وَعَزَّ - أَنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا سَلَّمَ لِأَمْرِ اللَّهِ وَرَجَعَ وَاسْتَرْجَعَ عِنْدَ الْمُصِيبَةِ كُتِبَ لَهُ ثَلَاثُ خِصَالٍ مِنَ الْخَيْرِ : الصَّلَاةُ مِنَ اللَّهِ وَالرَّحْمَةُ ، وَتَحْقِيقُ سَبِيلِ الْهُدَى ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنِ اسْتَرْجَعَ عِنْدَ الْمُصِيبَةِ جَبَرَ اللَّهُ مُصِيبَتَهُ وَأَحْسَنَ عُقْبَاهُ وَجَعَلَ لَهُ خَلَفًا يَرْضَاهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” وہ لوگ کہ جب انہیں کوئی مصیبت لاحق ہوتی ہے ، تو وہ کہتے ہیں : بے شک ہم اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہیں اور بے شک ہم نے اسی کی طرف لوٹ کے جانا ہے یہ وہ لوگ ہیں کہ ان پر ان کے پروردگار کی طرف سے درود اور رحمت نازل ہو گا ، اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں “ ۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اللہ تعالیٰ نے یہ بات بتائی ہے کہ جب مؤمن اللہ تعالیٰ کے حکم کو تسلیم کرتا ہے ، اور مصیبت کے وقت «انا لله وانا اليه راجعون» پڑھ لیتا ہے ، تو اس کے لئے بھلائی کی تین چیزیں نوٹ کی جاتی ہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے درود اور رحمت اور ہدایت کے راستے کا متحقق ہونا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے : ” جو شخص مصیبت کے وقت «انا لله وانا اليه راجعون» پڑھ لیتا ہے ، تو اللہ تعالٰی اس کی مصیبت کا بدلہ دیتا ہے ( یا اس کی وجہ سے ہونے والی خرابی کو ٹھیک کر دیتا ہے ) ، اور اس کا انجام اچھا کرتا ہے ، اور اسے اس کی جگہ ایسی چیز عطا کرتا ہے ، جس سے وہ شخص راضی ہوتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن ابوطلحہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 3944
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف