مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجنائز— جنائز کے بارے میں روایات
بَابُ الِاسْتِرْجَاعِ وَمَا يُسْتَرْجَعُ عِنْدَهُ . باب: انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھنا اور کس صورت میں انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھا جائے گا
حدیث نمبر: 3943
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أُعْطِيَتْ أُمَّتِي شَيْئًا لَمْ يُعْطَهُ أَحَدٌ مِنَ الْأُمَمِ عِنْدَ الْمُصِيبَةِ : إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ الطَّحَّانُ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میری امت کو ایک ایسی چیز عطا کی گئی ہے ، جو اور کسی بھی امت کو عطا نہیں کی گئی وہ مصیبت کے وقت «انا لله وانا اليه راجعون» پڑھنا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن خالد طحان ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔