مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجنائز— جنائز کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الْأَرْوَاحِ . باب: ارواح کا بیان
وَعَنْ أُمِّ هَانِئٍ الْأَنْصَارِيَّةِ أَنَّهَا سَأَلَتِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : أَنَتَزَاوَرُ إِذَا مِتْنَا ؟ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ مِثْلَهُ . ¤ وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ . ¤ قُلْتُ : ذَكَرَ أُمَّ هَانِئٍ أُخْتَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَذَكَرَ لَهَا الْحَدِيثَ الْأَوَّلَ وَذَكَرَ الثَّانِيَةَ وَأَنَّهَا أَنْصَارِيَّةٌ وَتَرْجَمَ لَهَا وَفِي الْآخَرِ ابْنُ لَهِيعَةَ . ¤سیدہ ام ہانی انصاریہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا : جب ہم مر جائیں گے تو کیا ایک دوسرے سے ملیں گے “ اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے ۔
اس روایت کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : پہلے انہوں نے سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کی بہن سے سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا کا ذکر کیا ، اور ان کے حوالے سے پہلے والی حدیث ذکر کی اور پھر اس کے بعد دوسری روایت ذکر کرتے ہوئے یہ کہا: کہ وہ خاتون انصاریہ ہیں اور انہوں نے اس خاتون کے حالات بھی بیان کر دیے دوسری روایت میں ابن لہیعہ ہے ۔