حدیث نمبر: 3934
عَنْ أُمِّ هَانِئٍ أَنَّهَا سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : أَنَتَزَاوَرُ إِذَا مِتْنَا وَيَرَى بَعْضُنَا بَعْضًا ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " تَكُونُ النَّسِيمُ طَيْرًا تَعْلُقُ بِالشَّجَرِ حَتَّى إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ دَخَلَتْ كُلُّ نَفْسٍ فِي جَسَدِهَا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا : کیا جب ہم مر جائیں گے تو ایک دوسرے سے ملیں گے اور ایک دوسرے کو دیکھیں گے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جان پرندے کی شکل میں درخت کے ساتھ لٹکی رہے گی یہاں تک کہ جب قیامت کا دن آئے گا ، تو ہر جان اپنے جسم میں داخل ہو جائے گی “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 3934
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف