مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجنائز— جنائز کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الْأَرْوَاحِ . باب: ارواح کا بیان
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : لَمَّا حَضَرَتْ سَعْدَ بْنَ مَالِكٍ الْوَفَاةُ دَخَلَتْ عَلَيْهِ أُمُّ مُبَشِّرٍ بِنْتُ الْبَرَاءِ بْنِ مَعْرُورٍ قَالَتْ : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنْ لَقِيتَ أَبِي فَأَقْرِئْهُ مِنِّي السَّلَامَ فَقَالَ : يَغْفِرُ اللَّهُ لَكَ يَا أُمَّ مُبَشِّرٍ نَحْنُ أَشْغَلُ مِنْ ذَلِكَ فَقَالَتْ : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَمَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ أَرْوَاحَ الْمُؤْمِنِينَ فِي أَجْوَافِ طَيْرٍ خُضْرٍ تَعْلُقُ فِي شَجَرِ الْجَنَّةِ " قَالَ : بَلَى قَالَتْ : فَهُوَ ذَاكَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ وَهُوَ مُدَلِّسٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا عبدالرحمن بن کعب بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب سیدنا سعد بن مالک رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت قریب آیا تو سیدہ ام مبشر رضی اللہ عنہا بنت براء بن معرور ان کے پاس آئیں اور بولیں : اے ابوعبدالرحمن ! اگر آپ کی ملاقات میرے والد سے ہو ، تو ان سے سلام کہہ دیجیے گا سیدنا سعد بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا: اے ام مبشر ! اللہ تعالیٰ تمہاری مغفرت کرے ہمیں اس بات کا موقع کہاں ملے گا ، تو سیدہ ام مبشر رضی اللہ عنہا نے کہا: اے ابوعبدالرحمن ! کیا آپ نے اللہ کے رسول کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے نہیں سنا ہے : ” مومنین کی ارواح سبز پرندوں کے پیٹوں میں جنت کے درخت سے لٹکی ہوئی ہوں گی“ تو سیدنا سعد بن مالک رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : جی ہاں ۔ تو سیدہ ام مبشر رضی اللہ عنہا نے کہا: پھر وہ ہو جائے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے ، اور وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔