حدیث نمبر: 39
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : جِئْتُ فِي اثْنَيْ عَشَرَ رَاكِبًا حَتَّى حَلَلْنَا بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ أَصْحَابِي : مَنْ يَرْعَى إِبِلَنَا وَنَنْطَلِقَ فَنَقْتَبِسَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَإِذَا رَاحَ اقْتَبَسْنَاهُ مَا سَمِعْنَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ فَقُلْتُ : أَنَا ، ثُمَّ قُلْتُ فِي نَفْسِي : لَعَلِّي مَغْبُونٌ ; يَسْمَعُ أَصْحَابِي مَا لَا أَسْمَعُ مِنْ نَبِيِّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . فَحَضَرْتُ يَوْمًا فَسَمِعْتُ رَجُلًا قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ تَوَضَّأَ وُضُوءًا كَامِلًا ، ثُمَّ قَامَ إِلَى صَلَاةٍ - كَانَ مِنْ خَطِيئَتِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ " . فَعَجِبْتُ مِنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : فَكَيْفَ لَوْ سَمِعْتَ الْكَلَامَ الْآخَرَ كُنْتَ أَشَدَّ عَجَبًا ؟ ! فَقُلْتُ : ارْدُدْ عَلَيَّ - جَعَلَنِي اللَّهُ فَدَاءَكَ - فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا فُتِحَتْ لَهُ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ ، يَدْخُلُ مِنْ أَيِّهَا شَاءَ ، وَلَهَا ثَمَانِيَةُ أَبْوَابٍ " . فَخَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَلَسْتُ مُسْتَقْبِلَهُ ، فَصَرَفَ وَجْهَهُ عَنِّي ، فَقُمْتُ فَاسْتَقْبَلْتُهُ ، فَفَعَلَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، فَلَمَّا كَانَتِ الرَّابِعَةُ قُلْتُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي ، لِمَ تَصْرِفُ وَجْهَكَ عَنِّي ؟ فَأَقْبَلَ عَلَيَّ فَقَالَ : " أَوَاحِدٌ أَحَبُّ إِلَيْكَ أَمِ اثْنَا عَشَرَ ؟ " مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا . فَلَمَّا رَأَيْتُ ذَلِكَ رَجَعْتُ إِلَى أَصْحَابِي . ¤ قُلْتُ : لَهُ فِي الصَّحِيحِ حَدِيثٌ غَيْرُ هَذَا ، وَقَدْ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِي إِسْنَادِهِ الْقَاسِمُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں بارہ افراد سمیت آیا ، ہم لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ( یعنی مدینہ منورہ سے باہر ) سواریاں کھڑی کیں ، میرے ساتھیوں نے کہا: ہمارے اونٹوں کی دیکھ بھال کون کرے گا ؟ تاکہ ہم جائیں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے فیض حاصل کریں ، پھر جب وہ شخص آئے گا ، تو ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جو کچھ سنا ہو گا ، وہ اسے بتائیں گے ، میں نے کہا: میں ایسا کر لیتا ہوں ، پھر میں نے دل میں سوچا ، اس طرح تو میں گھاٹے کا سودا کروں گا ، کیونکہ اس طرح میرے ساتھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ باتیں سن لیں گے ، جو میں نے نہیں سنی ہوں گی ، ایک دن میں موجود تھا ، میں نے ایک شخص کو یہ - بیان کرتے ہوئے سنا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص مکمل وضو کرے اور پھر نماز ادا کرنے کے لیے کھڑا ہو جائے ، تو وہ اپنے گناہوں کے حوالے سے اس طرح ہو جاتا ہے جیسے اُس دن تھا ، جب اس کی والدہ نے اسے جنم دیا تھا“۔ مجھے یہ بات اچھی لگی ، تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اس وقت کیا ہوتا جب تم نے دوسری بات سنی ہوتی ، جو اس سے بھی زیادہ اچھی ہے ، میں نے کہا: آپ وہ بات میرے سامنے دہرا دیں ، اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر فدا کرے ، تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بتایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص ایسی حالت میں مرتا ہے ، کہ وہ کسی کو اللہ کا شریک نہ ٹھہراتا ہو ، تو اس کے لیے جنت کے تمام دروازے کھول دیئے جائیں گے ، وہ جس ( دروازے ) میں سے چاہے ، اندر داخل ہو جائے ، اور جنت کے آٹھ دروازے ہیں۔ “
سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے ، تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آ کر بیٹھ گیا ، آپ نے مجھ سے چہرہ پھیر لیا ، تو میں اُٹھا اور ( دوسری طرف سے ) آپ کے سامنے آ کر بیٹھ گیا ، ایسا تین مرتبہ ہوا ، جب چوتھی مرتبہ ہوئی ، تو میں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ! آپ مجھ سے چہرہ کیوں پھیر رہے ہیں ؟ نہی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف متوجہ ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :” تمہارے نزدیک ایک زیادہ پسندیدہ ہے ، یا بارہ ؟“ یہ بات آپ نے دو یا شاید تین مرتبہ ارشاد فرمائی ، جب میں نے یہ بات دیکھی ، تو میں اپنے ساتھیوں کی طرف واپس چلا گیا ۔
( علامہ ہیثمی کہتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان صحابی کے حوالے سے ” صحیح“ میں اس کے علاوہ حدیث منقول ہے یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی قاسم ابوعبدالرحمن ہے ، اور وہ متروک ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 39
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الاوسط 7947»