حدیث نمبر: 38
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : بَيْنَمَا أَنَا أَسِيرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذْ هَبَطَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ مِنْ ثَنِيَّةٍ ، وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَسِيرُ وَحْدَهُ ، فَلَمَّا أَسْهَلَتْ بِهِ الطَّرِيقُ ضَحِكَ وَكَبَّرَ ، فَكَبَّرْنَا لِتَكْبِيرِهِ ، ثُمَّ سَارَ رَتْوَةً ، ثُمَّ ضَحِكَ وَكَبَّرَ ، فَكَبَّرْنَا لِتَكْبِيرِهِ ، ثُمَّ أَدْرَكْنَاهُ ، فَقَالَ الْقَوْمُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَبَّرْنَا لِتَكْبِيرِكَ ، وَلَا نَدْرِي مِمَّ ضَحِكْتَ ! فَقَالَ : " قَادَ النَّاقَةَ لِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ ، فَلَمَّا أَسَهَلَتِ الْتَفَتَ إِلَيَّ فَقَالَ : أَبْشِرْ ، وَبَشِّرْ أُمَّتَكَ أَنَّهُ مَنْ قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ - دَخَلَ الْجَنَّةَ ، فَضَحِكْتُ وَكَبَّرْتُ رَبِّي ، ثُمَّ سَارَ رَتْوَةً ، ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيَّ فَقَالَ : أَبْشِرْ ، وَبَشِّرْ أُمَّتَكَ أَنَّهُ مَنْ قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ دَخَلَ الْجَنَّةَ ، وَقَدْ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ النَّارَ ، فَضَحِكْتُ وَكَبَّرْتُ رَبِّي ، فَفَرِحْتُ بِذَلِكَ لِأُمَّتِي " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ سَلَامَةُ بْنُ رَوْحٍ ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ وَوَثَّقُوهُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کر رہا تھا ، آپ کی سواری ایک گھاٹی سے نیچے اتر رہی تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تنہا چل رہے تھے ، جب راستہ سیدھا ہوا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیے اور آپ نے تکبیر کہی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تکبیر کہنے کی وجہ سے ، ہم نے بھی تکبیر کہہ دی کچھ دیر چلنے کے بعد ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پھر ہنس پڑے اور اپنے تکبیر کہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تکبیر کہنے کی وجہ سے ہم نے بھی تکبیر کہی ، جب ہم آپ کے پاس پہنچے ، تو حاضرین نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تکبیر کہنے کی وجہ سے ہم نے بھی تکبیر کہہ دی تھی ، لیکن ہمیں یہ سمجھ نہیں آئی ، کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کس بات پر ہنسے تھے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میں ارشاد فرمایا : ”جبرائیل میری اونٹنی کو لے کر چل رہے تھے ، جب راستہ سیدھا ہوا ، تو وہ میری طرف متوجہ ہوئے اور بولے : آپ یہ خوشخبری حاصل کریں اور اپنی امت کو بھی یہ خوشخبری دیں کہ جو شخص یہ پڑھ لے گا : اللہ تعالی کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، وہی ایک معبود ہے ، اُس کا کوئی شریک نہیں ہے ، تو وہ شخص جنت میں داخل ہو گا ، تو میں ہنس پڑا اور میں نے اپنے پروردگار کے کبریائی بیان کی ، پھر کچھ چلنے کے بعد ، وہ میری طرف متوجہ ہوئے اور بوئے : آپ یہ خوشخبری حاصل کریں اور اپنی امت کو یہ خوشخبری دیں کہ جو شخص یہ پڑھے گا : اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے صرف وہی معبود ہے ، اُس کا کوئی شریک نہیں ہے تو وہ جنت میں داخل ہو گا اور اللہ تعالیٰ اس پر آگ کو حرام کر دے گا ، تو میں ہنس پڑا اور میں نے اپنے پروردگار کی کبریائی بیان کی ، اور میں اپنی امت کے لئے اس بات پر خوش ہو گیا “۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس میں ایک راوی سلامہ بن روح ہے ، ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، اور ایک جماعت نے اس کی توثیق کی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 38
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الاوسط 6522»