مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجنائز— جنائز کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الطَّاعُونِ وَالثَّابِتِ فِيهِ وَالْفَارِّ مِنْهُ . باب: طاعون کا بیان اس میں اپنی جگہ پر رہنے والے اور اس سے راہ فرار اختیار کرنے والے کا بیان
حدیث نمبر: 3869
وَلَهَا عِنْدَ الْبَزَّارِ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا الطَّعْنُ قَدْ عَرَفْنَاهُ فَمَا الطَّاعُونُ ؟ قَالَ : " يُشْبِهُ الدُّمَّلَ يَخْرُجُ فِي الْآبَاطِ وَالْمُرَاقِ وَفِيهِ تَزْكِيَةُ أَعْمَالِهِمْ وَهُوَ لِكُلِّ مُسْلِمٍ شَهَادَةٌ " . ¤ وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ ، وَبَقِيَّةُ الْأَسَانِيدِ حِسَانٌ . ¤محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے امام بزار نے یہ روایت نقل کی ہے ۔ ( وہ بیان کرتی ہیں : ) میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! طعن کا تو ہمیں پتہ ہے طاعون کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ پھوڑے کی مانند ہو گا ، جو بغلوں میں ، اور پیٹ کے نیچے والے حصے میں نکلے گا ، اس میں ان لوگوں کے اعمال کا تزکیہ ہو گا ، اور یہ ہر مسلمان کے لئے شہادت ہو گا ۔ امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں اور باقی اسانید حسن ہیں ۔