مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجنائز— جنائز کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الطَّاعُونِ وَالثَّابِتِ فِيهِ وَالْفَارِّ مِنْهُ . باب: طاعون کا بیان اس میں اپنی جگہ پر رہنے والے اور اس سے راہ فرار اختیار کرنے والے کا بیان
وَلَهَا عِنْدَ أَبِي يَعْلَى أَيْضًا أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " وَخْزَةٌ تُصِيبُ أُمَّتِي مِنْ أَعْدَائِهِمُ الْجِنِّ ، غُدَّةٌ كَغُدَّةِ الْإِبِلِ ، مَنْ أَقَامَ عَلَيْهَا كَانَ مُرَابِطًا وَمَنْ أُصِيبَ بِهِ كَانَ شَهِيدًا وَمَنْ فَرَّ مِنْهُ كَالْفَارِّ مِنَ الزَّحْفِ " . ¤ وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِنَحْوِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " وَالصَّابِرُ عَلَيْهِ كَالْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ " . ¤امام ابویعلیٰ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے یہ روایت بھی نقل کی ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” یہ ایک وار ہے ، جو میری امت کو ان کے دشمنوں جنات کی طرف سے لاحق ہو گا یہ اونٹ کے غدہ کی مانند غدہ ہے ، جو شخص اس ( طاعون زدہ علاقے ) میں ٹھہرا رہے گا وہ پہرا دینے والا شمار ہو گا ، اور جو اس میں مر جائے گا وہ شہید شمار ہو گا ، اور جو اس سے فرار اختیار کرے گا وہ میدان جنگ سے فرار اختیار کرنے والے کی مانند ہو گا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” اور اس پر صبر کرنے والا اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی مانند ہو گا“ ۔