مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجنائز— جنائز کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الطَّاعُونِ وَمَا تَحْصُلُ بِهِ الشَّهَادَةُ . باب: طاعون کا بیان اور اس کے ذریعے شہادت حاصل ہونا
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " فَنَاءُ أُمَّتِي فِي الطَّعْنِ وَالطَّاعُونِ " قُلْنَا : قَدْ عَرَفْنَا الطَّعْنَ فَمَا الطَّاعُونُ ؟ قَالَ : " وَخْزُ أَعْدَائِكُمْ مِنَ الْجِنِّ وَفِي كُلٍّ شَهَادَةٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِصْمَةَ النَّصِيبِيُّ قَالَ ابْنُ عَدِيٍّ : لَهُ مَنَاكِيرُ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” میری امت طعن ( یعنی جنگ میں زخمی ہونے ) اور طاعون کے ذریعے فنا ہو گی“ ہم نے عرض کی : طعن کا تو ہمیں پتہ ہے طاعون کیا چیز ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ تمہارے دشمنوں جنات کا وار ہے ، اور ( طعن اور طاعون دونوں میں سے ) ہر ایک صورت میں شہادت نصیب ہو گی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن عصمہ نصیبی ہے ۔ ابن عدی کہتے ہیں : اس کے حوالے سے منکر روایات منقول ہیں ابن حبان نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔