مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجنائز— جنائز کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الطَّاعُونِ وَمَا تَحْصُلُ بِهِ الشَّهَادَةُ . باب: طاعون کا بیان اور اس کے ذریعے شہادت حاصل ہونا
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ قَالَ : لَمَّا وَقَعَ الطَّاعُونُ بِالشَّامِ خَطَبَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ النَّاسَ فَقَالَ : إِنَّ هَذَا الطَّاعُونَ رِجْسٌ فَتَفَرَّقُوا عَنْهُ فِي هَذِهِ الشِّعَابِ وَفِي هَذِهِ الْأَوْدِيَةِ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ شُرَحْبِيلَ بْنَ حَسَنَةَ قَالَ : فَغَضِبَ فَجَاءَ يَجُرُّ ثَوْبَهُ مُعَلِّقَ نَعْلَيْهِ بِيَدِهِ فَقَالَ : صَحِبْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ، وَعَمْرٌو أَضَلُّ مِنْ حِمَارِ أَهْلِهِ وَلَكِنَّهُ رَحْمَةٌ [ مِنْ رَ ] بِّكُمْ وَدَعْوَةُ نَبِيِّكُمْ وَمَوْتُ الصَّالِحِينَ قَبْلَكُمْ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ . ¤عبدالرحمن بن غنم بیان کرتے ہیں : جب شام میں طاعون پھیل گیا تو سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیتے ہوئے یہ ارشاد فرمایا : یہ طاعون ، گندگی ( یعنی بیماری ) ہے ، تو تم اسے چھوڑ کر مختلف علاقوں اور مختلف وادیوں میں بکھر جاؤ اس بات کی اطلاع سیدنا شرحبیل بن حسنہ کو ملی تو وہ غصے میں آ گئے ، تو وہ اپنے کپڑے کو کھینچتے ہوئے اور اپنے ہاتھ میں جوتے کو لٹکا کر آئے اور یہ بات بیان کی : میں اللہ کے رسول کے ساتھ رہا ہوں عمرو اپنے اہل خانہ کے گدھے سے زیادہ گمراہ ہے بلکہ یہ ( طاعون ) تمہارے پروردگار کی طرف سے رحمت ہے ، اور تمہارے نبی کی دعا ہے ، اور تم سے پہلے کے نیک لوگوں کی موت ( کی وجہ ) ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔