مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الإيمان— ایمان کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الْكَبَائِرِ . باب: کبیرہ گناہوں کا بیان
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : صَعِدَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمِنْبَرَ فَقَالَ : " لَا أُقْسِمُ ، لَا أُقْسِمُ " ، ثُمَّ نَزَلَ فَقَالَ : " أَبْشِرُوا ، أَبْشِرُوا ، مَنْ صَلَّى الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ ، وَاجْتَنَبَ الْكَبَائِرَ ; دَخَلَ مِنْ أَيِّ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ شَاءَ " . قَالَ الْمُطَّلِبُ : سَمِعْتُ رَجُلًا يَسْأَلُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو : أَسْمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَذْكُرُهُنَّ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، عُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ ، وَالشِّرْكُ بِاللَّهِ ، وَقَتْلُ النَّفْسِ ، وَقَذْفُ الْمُحْصَنَاتِ ، وَأَكْلُ مَالِ الْيَتِيمِ ، وَالْفِرَارُ مِنَ الزَّحْفِ ، وَأَكْلُ الرِّبَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُسْلِمُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ الْعَبَّاسِ ، وَلَمْ أَرَ مَنْ ذَكَرَهُ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر چڑھے اور آپ نے ارشاد فرمایا : میں قسم اٹھاتا ہوں ! میں قسم اٹھاتا ہوں ! پھر آپ منبر سے نیچے تشریف لے آئے اور ارشاد فرمایا : تم لوگ یہ خوش خبری حاصل کرو ! تم لوگ یہ خوشخبری حاصل کرو ! کہ جو شخص پانچ نمازیں ادا کرے ، اور کبیرہ گناہوں سے اجتناب کرے ، وہ جنت کے جس بھی دروازے سے چاہے گا ، اندر داخل ہو جائے گا ، مطلب نامی راوی بیان کرتے ہیں : میں نے ایک شخص کو سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے یہ سوال کرتے ہوئے سنا : کیا آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان ( کبیرہ گناہوں ) کا ذکر کرتے ہوئے سنا ہے ، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : جی ہاں ! وہ کبیرہ گناہ یہ ہیں ) والدین کی نافرمانی کرنا ، اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا ، کسی کو قتل کرنا ، پاک دامن عورتوں پر الزام لگانا ، یتیم کا مال کھانا ، میدان جنگ سے راہ فرار اختیار کرنا اور سود کھانا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی مسلم بن ولید بن عباس ہے ، میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔