مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الإيمان— ایمان کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الْكَبَائِرِ . باب: کبیرہ گناہوں کا بیان
وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَرَأَيْتُمُ الزَّانِيَ وَالسَّارِقَ وَشَارِبَ الْخَمْرِ مَا تَقُولُونَ فِيهِمْ ؟ " قَالُوا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ . قَالَ : " هُنَّ فَوَاحِشُ ، وَفِيهِنَّ عُقُوبَةٌ ، أَلَا أُنْبِئُكُمْ بِأَكْبَرِ الْكَبَائِرِ ؟ ! الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ ، ثُمَّ قَرَأَ : " وَمَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدِ افْتَرَى إِثْمًا عَظِيمًا " ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ ، ثُمَّ قَرَأَ : " أَنِ اشْكُرْ لِي وَلِوَالِدَيْكَ إِلَيَّ الْمَصِيرُ " ، وَكَانَ مُتَّكِئًا فَاحْتَفَزَ فَقَالَ : " أَلَا وَقَوْلُ الزُّورِ " . وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : كُلُّ مَا نَهَى اللَّهُ عَنْهُ فَهُوَ كَبِيرَةٌ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ الْحَسَنَ مُدَلِّسٌ وَعَنْعَنَهُ . ¤سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” زانی ، چور اور شراب نوشی کرنے والے شخص کے بارے میں ، تم لوگوں کی کیا رائے ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : اللہ اور اُس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ برائیاں ہیں اور ان کی سزا بھی ہے ، لیکن کیا میں تمہیں سب سے بڑے کبیرہ گناہوں کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ ( وہ یہ ہیں : ) کسی کو اللہ کا شریک قرار دینا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی : ” جو شخص کسی کو اللہ کا شریک قرار دیتا ہے ، وہ بڑے گناہ کا الزام عائد کرتا ہے “ ۔ ( اور دوسرا بڑا گناہ ) والدین کی نافرمانی کرنا ہے ، پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی : ” تم میری اور اپنے والدین کی شکر گزاری کرو اور میری ہی طرف لوٹنا ہے “ ۔ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدھے ہو کر بیٹھ گئے اور ارشاد فرمایا : خبردار ! اور جھوٹی بات بھی ( کبیرہ گناہوں میں سے ایک ہے ) “ ۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : ہر وہ چیز ، جس سے اللہ تعالیٰ نے منع کیا ہو ( اس کا ارتکاب ) کبیرہ گناہ شمار ہو گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ حسن نامی راوی تدلیس کرنے والا ہے ، اور یہ روایت اس نے ” عنعنہ “ کے ساتھ نقل کی ہے ۔