حدیث نمبر: 3836
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : دَخَلْتُ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَعُودُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ وَهُوَ يَشْتَكِي عَيْنَيْهِ فَقَالَ لَهُ : " يَا زَيْدُ لَوْ كَانَ بَصَرُكَ لَمَا بِهِ [ كَيْفَ كُنْتَ تَصْنَعُ ؟ قَالَ : إِذًا أَصْبِرُ وَأَحْتَسِبُ . قَالَ : إِنْ كَانَ بَصَرُكَ لَمَا بِهِ ، ثُمَّ ] صَبَرْتَ وَاحْتَسَبْتَ لَتَلْقَيَنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - لَيْسَ عَلَيْكَ ذَنْبٌ " . ¤ قُلْتُ : لِأَنَسٍ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ غَيْرُ هَذَا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ الْجُعْفِيُّ وَفِيهِ كَلَامٌ كَثِيرٌ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ الثَّوْرِيُّ وَشُعْبَةُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کی عیادت کرنے کے لئے داخل ہوا ان کی آنکھوں میں تکلیف تھی ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : اے زید اگر تمہاری بینائی رخصت ہو جائے ، تو پھر تم کیا کرو گے ؟ انہوں نے عرض کی : ایسی صورت میں ، میں صبر سے کام لوں گا ، اور ثواب کی امید رکھوں گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر تمہاری بینائی رخصت ہو جائے اور تم صبر سے کام لو اور ثواب کی امید رکھو ، تو جب تم اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گے ، تو تم پر کوئی گناہ نہیں ہو گا ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول ایک حدیث ” صحیح “ میں مذکور ہے ، جو اس کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی جعفی ہے ، جس کے بارے میں بہت زیادہ کلام کیا گیا ہے ثوری اور شعبہ نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 3836
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف