مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجنائز— جنائز کے بارے میں روایات
بَابُ جَزِيلِ ثَوَابِ الْمَرَضِ . باب: بیماری کا بڑا ( یعنی زبردست ) ثواب
وَعَنِ الْأَصْبَغِ بْنِ نُبَاتَةَ قَالَ : دَخَلْتُ مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ إِلَى الْحَسَنِ نَعُودُهُ فَقَالَ لَهُ : كَيْفَ أَصْبَحْتَ يَا ابْنَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قَالَ : أَصْبَحْتُ بِحَمْدِ اللَّهِ بَارِئًا قَالَ : كَذَلِكَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ قَالَ الْحَسَنُ : اسْنِدُونِي فَأَسْنَدَهُ عَلِيٌّ إِلَى صَدْرِهِ فَقَالَ : سَمِعْتُ جَدِّي رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ فِي الْجَنَّةِ شَجَرَةً يُقَالُ لَهَا شَجَرَةُ الْبَلْوَى يُؤْتَى بِأَهْلِ الْبَلَاءِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَلَا يُرْفَعُ لَهُمْ دِيوَانٌ وَلَا يُنْصَبُ لَهُمْ مِيزَانٌ يُصَبُّ عَلَيْهِمُ الْأَجْرُ صَبَّا ، وَقَرَأَ : إِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ سَعْدُ بْنُ طَرِيفٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤اصبغ بن نباتہ بیان کرتے ہیں : میں سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کے ہمراہ سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کی عیادت کرنے کے لئے حاضر ہوا ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان سے دریافت کیا : اے اللہ کے رسول کے صاحبزادے تمہارا کیا حال ہے ۔ انہوں نے جواب دیا : الحمدللہ اب میں بہتر ہوں سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اگر اللہ نے چاہا تو ایسا ہی ہو گا ، پھر سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا : آپ لوگ مجھے سہارا دیں ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے انہیں اپنے سینے کے ساتھ لگایا ، تو سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ نے بتایا : میں نے اپنے نانا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” بے شک جنت میں ایک درخت ہے ، جسے آزمائش کا درخت کہا: جاتا ہے قیامت کے دن آزمائش کا شکار لوگوں کو لایا جائے گا ، تو ان کے لئے دیوان بلند نہیں کیا جائے گا ان کے لئے میزان کو نصب نہیں کیا جائے گا ، اور ان پر اجر کو بہا دیا جائے گا پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت کی : ” بے شک صبر کرنے والوں کو ان کا اجر کسی حساب کے بغیر دیا جائے گا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سعد بن طریف ہے ، اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔