مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجنائز— جنائز کے بارے میں روایات
بَابُ مَا يَجْرِي عَلَى الْمَرِيضِ . باب: بیمار کے حوالے سے جو ( اجر و ثواب ) جاری رہتا ہے ؟
وَعَنْ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " عَجَبٌ لِلْمُؤْمِنِ وَجَزِعِهِ مِنَ السُّقْمِ وَلَوْ يَعْلَمُ مَا لَهُ فِي السُّقْمِ أَحَبَّ أَنْ يَكُونَ سَقِيمًا الدَّهْرَ " ، ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ فَضَحِكَ فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ : مِمَّ رَفَعْتَ إِلَى السَّمَاءِ فَضَحِكْتَ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " عَجِبْتُ مِنْ مَلَكَيْنِ كَانَا يَلْتَمِسَانِ عَبْدًا فِي مُصَلَّى كَانَ فِيهِ وَلَمْ يَجِدَاهُ فَرَجَعَا فَقَالَا : يَا رَبَّنَا عَبَدُكَ فُلَانٌ كُنَّا نَكْتُبُ لَهُ فِي يَوْمِهِ وَلَيْلَتِهِ عَمَلَهُ الَّذِي كَانَ يَعْمَلُ فَوَجَدْنَاهُ قَدْ حَبَسْتَهُ فِي حِبَالِكَ ، قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى : اكْتُبُوا لِعَبْدِي عَمَلَهُ الَّذِي كَانَ يَعْمَلُ فِي يَوْمِهِ وَلَيْلَتِهِ وَلَا تَنْقُصُوا مِنْهُ شَيْئًا وَعَلَيَّ أَجْرُهُ مَا حَبَسْتُهُ وَلَهُ أَجْرُ مَا كَانَ يَعْمَلُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤سیدنا عقبہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” مومن پر اور بیماری میں اس کی گریہ وزاری کرنے پر حیرانگی ہوتی ہے اگر اسے یہ پتہ چل جائے کہ بیماری کا کیا ۔ اجر و ثواب اسے ملتا ہے ، تو وہ اس بات کو پسند کرے گا کہ وہ ہمیشہ بیمار رہے راوی بیان کرتے ہیں : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر مبارک آسمان کی طرف اٹھایا اور ہنس پڑے عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! آپ آسمان کی طرف سر اٹھا کر ہنسے کیوں ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مجھے دو فرشتوں پر حیرانگی ہوئی وہ دونوں ایک بندے کو جائے نماز پر تلاش کر رہے تھے جہاں وہ موجود ہوتا تھا ان دونوں فرشتوں نے اُس کو نہیں پایا ، تو وہ دونوں واپس گئے ان دونوں نے عرض کی : اے ہمارے پروردگار تیرے فلاں بندے کا عمل ہم روزانہ دن اور رات میں نوٹ کیا کرتے تھے جو عمل وہ پہلے کیا کرتا تھا اب ہم نے اس کو پایا ہے کہ تو نے اسے اپنی رسی میں محبوس کر دیا ہے ( یعنی بیماری کا شکار کر دیا ہے ) تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : تم لوگ میرے بندے کے لئے اس کا وہی عمل نوٹ کرو جو وہ روزانہ دن اور رات میں عمل کیا کرتا تھا اور اس میں کوئی کمی نہ کرنا جب تک میں نے اسے محبوس رکھا ہے اس کا اجر میرے ذمہ ہے ، اور اس کو اس چیز کا اجر ملے گا ، جو وہ عمل پہلے کیا کرتا تھا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ امام بزار نے اسے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابوحمید ہے ، اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔