مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجنائز— جنائز کے بارے میں روایات
بَابُ مَا يَجْرِي عَلَى الْمَرِيضِ . باب: بیمار کے حوالے سے جو ( اجر و ثواب ) جاری رہتا ہے ؟
حدیث نمبر: 3813
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا مِنْ عَبْدٍ يَمْرَضُ إِلَّا أَمَرَ اللَّهُ حَافِظَهُ أَنَّ مَا عَمِلَ مِنْ سَيِّئَةٍ فَلَا يَكْتُبُهَا وَمَا عَمِلَ مِنْ حَسَنَةٍ أَنْ يَكْتُبَهَا عَشْرَ حَسَنَاتٍ ، وَأَنْ يَكْتُبَ لَهُ مِنَ الْعَمَلِ الصَّالِحِ كَمَا كَانَ يَعْمَلُ وَهُوَ صَحِيحٌ وَإِنْ لَمْ يَعْمَلْ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَفِيهِ عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ أَبِي الْمَسَاوِرِ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو بھی بندہ بیمار ہوتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ اس کے محافظ فرشتے کو حکم دیتا ہے کہ وہ ( بندہ ) جو برائی کرے وہ ( فرشتہ ) اس کو نوٹ نہ کرے ، وہ شخص جو اچھائی کرئے ، وہ فرشتہ اسے دس نیکیوں کے طور پر نوٹ کرے اور اس کے اس نیک عمل کو بھی اس کے حق میں نوٹ کرتا رہے ، جو وہ عمل پہلے کیا کرتا تھا جب وہ تندرست ہوتا تھا خواہ ( بیماری کے دوران ) اس نے وہ عمل نہ کیا ہو “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالاعلیٰ بن ابومساور ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔