مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الإيمان— ایمان کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الْكَبَائِرِ . باب: کبیرہ گناہوں کا بیان
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ لَقِيَ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا ، وَأَدَّى زَكَاةَ مَالِهِ طَيِّبًا بِهَا نَفْسُهُ مُحْتَسِبًا ، وَسَمِعَ وَأَطَاعَ ; فَلَهُ الْجَنَّةُ - أَوْ دَخَلَ الْجَنَّةَ - . وَخَمْسٌ لَيْسَ لَهُنَّ كَفَّارَةٌ : الشِّرْكُ بِاللَّهِ ، وَقَتْلُ النَّفْسِ بِغَيْرِ حَقٍّ ، وَبَهْتُ مُؤْمِنٍ ، وَالْفِرَارُ مِنَ الزَّحْفِ ، وَيَمِينٌ فَاجِرَةٌ يَقْتَطِعُ بِهَا مَالًا بِغَيْرِ حَقٍّ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ بَقِيَّةُ ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ وَقَدْ عَنْعَنَهُ . ¤سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص ایسی حالت میں ، اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو ، کہ وہ کسی کو اُس کا شریک قرار نہ دیتا ہو ، اور وہ ثواب کی امید رکھتے ہوئے ، اپنی خوشی کے ساتھ اپنے مال کی زکوۃ ادا کرتا ہو ، وہ اطاعت و فرمانبرداری کرتا ہو ، تو اُسے جنت نصیب ہو گی ( راوی کو شک ہے یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) وہ جنت میں داخل ہو گا ، اور پانچ کام ایسے ہیں ، جن کا کوئی کفارہ نہیں ہے ، ( کسی کو ) اللہ تعالیٰ کا شریک قرار دینا ، کسی کو ناحق طور پر قتل کرنا ، مؤمن پر بہتان لگانا ، میدان جنگ سے راہ فرار اختیار کرنا اور جھوٹی قسم اٹھانا ، جس کے ذریعے آدمی ناحق طور پر کسی کا مال ہتھیا لے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی بقیہ ہے ، جو تدریس کرنے والا ہے اور اس نے
یہ روایت ” عنعنہ “ کے طور پر نقل کی ہے ۔