مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجنائز— جنائز کے بارے میں روایات
بَابُ عِيَادَةِ الْمَرِيضِ . باب: بیمار کی عیادت کرنا
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - " مِنْ عَادَ مَرِيضًا خَاضَ فِي الرَّحْمَةِ ، فَإِذَا جَلَسَ إِلَيْهِ غَمَرَتْهُ الرَّحْمَةُ ، فَإِنْ عَادَهُ مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ اسْتَغْفَرَ لَهُ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ حَتَّى [ يُمْسِي وَإِنْ عَادَ مِنْ آخِرِ النَّهَارِ اسْتَغْفَرَ لَهُ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ حَتَّى ] يُصْبِحَ " ، قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا لِلْعَائِدِ ، فَمَا لِلْمَرِيضِ ؟ قَالَ : " أَضْعَافُ هَذَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْأَنْصَارِيُّ وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص بیمار کی عیادت کرتا ہے وہ رحمت میں غوطہ لگاتا ہے ، اور جب وہ اس کے پاس بیٹھتا ہے ، تو رحمت اسے ڈھانپ لیتی ہے اگر وہ دن کے ابتدائی حصے میں اس کی عیادت کرتا ہے ، تو ستر ہزار فرشتے شام ہونے تک اس کے لئے دعائے مغفرت کرتے ہیں اور اگر وہ دن کے آخری حصے میں عیادت کرتا ہے ، تو ستر ہزار فرشتے صبح ہونے تک اس کے لئے دعائے مغفرت کرتے ہیں عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! یہ فضیلت تو عیادت کرنے والے کو حاصل ہوتی ہے بیمار کو کیا ( اجر و ثواب ) ملتا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس کا کئی گنا ( اجر و ثواب ) ملتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبد الملک انصاری ہے ، اور میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔