حدیث نمبر: 3761
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا فَقَدَ الرَّجُلَ مِنْ إِخْوَانِهِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ سَأَلَ عَنْهُ فَإِنْ كَانَ غَائِبًا دَعَا لَهُ وَإِنْ كَانَ شَاهِدًا زَارَهُ وَإِنْ كَانَ مَرِيضًا عَادَهُ ، فَفَقَدَ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ فِي الْيَوْمِ الثَّالِثِ فَسَأَلَ عَنْهُ فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ تَرَكْنَاهُ مِثْلَ الْقَرْعِ لَا يَدْخُلُ فِي رَأْسِهِ شَيْءٌ إِلَّا خَرَجَ مِنْ دُبُرِهِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عُودُوا أَخَاكُمْ " قَالَ فَخَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَعُودُهُ وَفِي الْقَوْمِ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ فَلَمَّا دَخَلْنَا عَلَيْهِ إِذَا هُوَ كَمَا وُصِفَ لَنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " كَيْفَ تَجِدُكَ ؟ " قَالَ : مَا يَدْخُلُ فِي رَأْسِي شَيْءٌ إِلَّا خَرَجَ مِنْ دُبُرِي قَالَ : " وَمِمَّ ذَاكَ ؟ " قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ مَرَرْتُ بِكَ وَأَنْتَ تُصَلِّي الْمَغْرِبَ فَصَلَّيْتُ مَعَكَ وَأَنْتَ تَقْرَأُ هَذِهِ السُّورَةَ : الْقَارِعَةُ مَا الْقَارِعَةُ إِلَى آخِرِهَا نَارٌ حَامِيَةٌ قَالَ : فَقُلْتُ : اللَّهُمَّ مَا كَانَ مِنْ ذَنْبٍ مُعَذِّبْنِي عَلَيْهِ فِي الْآخِرَةِ فَعَجِّلْ لِي عُقُوبَتَهُ فِي الدُّنْيَا ، فَنَزَلَ بِي مَا تَرَى فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " بِئْسَ مَا قُلْتَ ، أَلَا سَأَلَتَ اللَّهَ أَنْ يُؤْتِيَكَ فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَيَقِيَكَ عَذَابَ النَّارِ ؟ " قَالَ : فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَدَعَا بِذَلِكَ وَدَعَا لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ قَالَ : فَقَامَ كَأَنَّمَا نَشِطَ مِنْ عِقَالٍ قَالَ : فَلَمَّا خَرَجْنَا قَالَ عُمَرُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ حَضَضْتَنَا آنِفًا عَلَى عِيَادَةِ الْمَرِيضِ فَمَا لَنَا فِي ذَلِكَ ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ الْمَرْءَ الْمُسْلِمَ إِذَا خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ يَعُودُ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ خَاضَ فِي الرَّحْمَةِ إِلَى حَقْوَيْهِ ، فَإِذَا جَلَسَ عِنْدَ الْمَرِيضِ غَمَرَتْهُ الرَّحْمَةُ [ وَغَمَرَتِ الْمَرِيضَ الرَّحْمَةُ ] وَكَانَ الْمَرِيضُ فِي ظِلِّ عَرْشِهِ وَكَانَ الْعَائِدُ فِي ظِلِّ قُدْسِهِ ، وَيَقُولُ اللَّهُ لِلْمَلَائِكَةِ : انْظُرُوا كَمِ احْتَسَبُوا عِنْدَ الْمَرِيضِ الْعُوَّادُ ؟ قَالَ : تَقُولُ : أَيْ رَبِّ فَوَاقًا - إِنْ كَانَ احْتَبَسُوا فَوَاقًا - فَيَقُولُ اللَّهُ لِمَلَائِكَتِهِ : اكْتُبُوا لِعَبْدِي [ الْعَائِدِ ] عِبَادَةَ أَلْفِ سَنَةٍ قِيَامَ لَيْلِهِ وَصِيَامَ نَهَارِهِ ، وَأَخْبَرُوهُ أَنِّي لَمْ أَكْتُبْ عَلَيْهِ خَطِيئَةً وَاحِدَةً قَالَ : وَيَقُولُ لِلْمَلَائِكَةِ : انْظُرُوا كَمِ احْتَسَبُوا ؟ قَالَ : يَقُولُونَ : سَاعَةً - إِنْ كَانُوا احْتَسَبُوا سَاعَةً - فَيَقُولُ : اكْتُبُوا لَهُ دَهْرًا وَالدَّهْرُ عَشَرَةُ آلَافِ سَنَةٍ إِنْ مَاتَ قَبْلَ ذَلِكَ دَخَلَ الْجَنَّةَ ، وَإِنْ عَاشَ لَمْ يُكْتَبْ عَلَيْهِ خَطِيئَةٌ وَاحِدَةٌ ، وَإِنْ كَانَ صَبَاحًا صَلَّى عَلَيْهِ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ حَتَّى يُمْسِيَ [وَكَانَ فِي خَرَافِ الْجَنَّةِ ] ، وَإِنْ كَانَ مَسَاءً صَلَّى عَلَيْهِ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ حَتَّى يُصْبِحَ ، وَكَانَ فِي خِرَافِ الْجَنَّةِ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَفِيهِ عَبَّادُ بْنُ كَثِيرٍ وَكَانَ رَجُلًا صَالِحًا وَلَكِنَّهُ ضَعِيفُ الْحَدِيثِ مَتْرُوكٌ لِغَفْلَتِهِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ساتھیوں میں سے کسی شخص کو تین دن تک غیر موجود پاتے تھے تو اس کے بارے میں دریافت کرتے تھے اگر وہ غیر موجود ہوتا تھا ، تو اس کے لئے دعا کر دیتے تھے ، اور اگر وہ ( شہر میں ) موجود ہوتا تھا ، تو اس سے ملنے کے لئے جاتے تھے ، اور اگر وہ بیمار ہوتا تھا ، تو آپ اس کی عیادت کے لئے جاتے تھے ایک مرتبہ آپ نے انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو تیسرے دن غیر موجود پایا تو اس کے بارے میں دریافت کیا : عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! ہم نے اسے قرع ( بے آب و گیاہ جگہ جہاں نباتات نہیں ہوتی ہیں ) کی مانند پایا ہے کہ اس کے منہ میں جو چیز جاتی ہے ، وہ اس کے شرم گاہ سے ( پاخانے کی شکل میں ) نکل جاتی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعض ساتھیوں سے فرمایا تم لوگ اپنے بھائی کی عیادت کرو راوی کہتے ہیں : ہم لوگ اس شخص کی عیادت کرنے کے لئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے لوگوں میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی تھے ، جب ہم اس کے پاس پہنچے تو اس کی وہی حالت تھی جو ہمارے سامنے بیان کی گئی تھی ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تمہارا کیا حال ہے ؟ اس نے عرض کی : میرے سر ( یعنی منہ ) میں جو چیز بھی جاتی ہے وہ میری شرمگاہ سے نکل جاتی ہے ۔ لوگوں نے دریافت کیا : اس کی وجہ کیا ہے ؟ اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ایک مرتبہ میں آپ کے پاس سے گزرا آپ اس وقت مغرب کی نماز پڑھا رہے تھے میں نے آپ کی اقتداء میں نماز ادا کی آپ نے اس میں سورة القارعہ کی تلاوت کی ، تو میں نے یہ دعا کی : اے اللہ ! میرے جس بھی گناہ کا مجھے آخرت میں عذاب ہونا ہے ، تو مجھے اس گناہ کی سزا دنیا میں دے دے تو مجھے اس صورت حال کا سامنا کرنا پڑا ہے ، جو آپ ملاحظہ فرما رہے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم نے بہت غلط بات کہی ہے کیا تم اللہ تعالیٰ سے یہ دعا نہیں مانگ سکتے تھے کہ وہ تمہیں دنیا میں بھلائی عطا کرے اور آخرت میں بھی بھلائی عطا کرے اور تمہیں جہنم کے عذاب سے بچا لے ؟ راوی کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو ہدایت کی ، تو اس شخص نے یہ دعا کی پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس کے لئے دعا کی راوی بیان کرتے ہیں : تو وہ شخص یوں کھڑا ہوا جیسے اسے رسیوں سے چھڑا دیا گیا ہو راوی بیان کرتے ہیں : جب ہم وہاں سے نکلے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ نے ہمیں کچھ دیر پہلے بیمار کی عیادت کرنے کی ترغیب دی تھی تو ہمیں اس کا کیا اجر و ثواب حاصل ہو گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب کوئی مسلمان شخص اپنے مسلمان بھائی کی عیادت کے لئے اپنے گھر سے نکلتا ہے ، تو وہ تہبند باندھنے کے مقام تک رحمت میں ڈوبا رہتا ہے ، اور جب وہ بیمار کے پاس بیٹھتا ہے ، تو رحمت اسے ڈھانپ لیتی ہے ، اور بیمار شخص عرش کے سائے میں ہوتا ہے ، اور عیادت کرنے والا اس کی پاکی کے سائے میں ہوتا ہے اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرماتا ہے تم لوگ اس بات کا جائزہ لو کہ بیمار کے پاس عیادت کرنے والوں نے کتنے ثواب کی امید رکھی تو فرشتہ عرض کرتا ہے میرے پروردگار جتنی دیر میں اونٹنی کا دودھ لیا جاتا ہے خواہ وہ اتنی دیر کے لئے ثواب کی امید رکھے جتنی دیر میں اونٹنی کا دودھ لیا جاتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرماتا ہے تم میرے عیادت کرنے والے بندے کے لئے ایک ہزار سال کی راتوں کی نوافل اور دن کے نفلی روزوں کی عبادت کا ثواب نوٹ کر لو اور اسے یہ بتا دو کہ میں اس کے خلاف ایک بھی گناہ کو نوٹ نہیں کروں گا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرماتا ہے : تم لوگ اس بات کا جائزہ لو کہ انہوں نے کتنے دیر تک ثواب کی امید رکھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں فرشتے کہتے ہیں : ایک گھڑی کے لئے ۔ خواہ ایک گھڑی کے لئے انہوں نے ثواب کی امید رکھی ہو ۔ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : تم اس کے لئے ایک زمانے تک کا ثواب نوٹ کر لو اور ایک زمانہ دس ہزار سال پر مشتمل ہوتا ہے ، اور اگر وہ شخص اس سے پہلے انتقال کر گیا تو وہ جنت میں جائے گا ، اور اگر وہ زندہ رہا تو اس کے خلاف ایک بھی گناہ کو نوٹ نہیں کیا جائے گا اگر صبح کا وقت ہو ( یعنی جب وہ شخص عیادت کرنے کے لئے گیا تھا ) تو شام ہونے تک ستر ہزار فرشتے اس شخص کے لئے دعائے رحمت کرتے رہتے ہیں اور وہ شخص جنت کے میوے چنتا رہتا ہے ، اور اگر ( عیادت کے لئے جانے ) کا شام کا وقت ہو ، تو ستر ہزار فرشتے صبح ہونے تک اس کے لئے دعائے رحمت کرتے رہتے ہیں تو وہ شخص ( اس دوران ) جنت کے میوے چنتا رہتا ہے “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عباد بن کثیر ہے وہ ایک نیک شخص ہے ، لیکن ضعیف الحدیث ہے ، اور اپنی غفلت کی وجہ سے متروک قرار پایا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 3761
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً