مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجنائز— جنائز کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ لَمْ يَمْرَضْ . باب: جو شخص بیمار نہ ہو
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ أَعْرَابِيًّا أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " مَتَى عَهْدُكَ بِأُمِّ مِلْدَمٍ ؟ " قَالَ : وَمَا أُمُّ مِلْدَمٍ ؟ قَالَ : " حَرٌّ يَكُونُ بَيْنَ الْجِلْدِ وَالْعَظْمِ يَمُصُّ الدَّمَ وَيَأْكُلُ اللَّحْمَ " قَالَ : مَا اشْتَكَيْتُ قَطُّ ! ! فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ أَرَادَ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَلْيَنْظُرْ إِلَى هَذَا " ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَخْرِجُوهُ عَنِّي " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْحَسَنُ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ ، قَالَ عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ : صَدُوقٌ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ ، وَقَالَ ابْنُ عَدِيٍّ : صَدُوقٌ وَهُوَ مِمَّنْ لَمْ يَتَعَمَّدِ الْكَذِبَ وَلَهُ أَحَادِيثُ صَالِحَةٌ . ¤سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دیہاتی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تمہیں اُم ملدم آخری مرتبہ کب ہوا تھا ؟ اس نے دریافت کیا : ام ملدم کیا ہوتا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ایک تپش جو جلد اور ہڈیوں کے درمیان ہوتی ہے ، اور خون چوس لیتی ہے ، اور گوشت کو کھا لیتی ہے اس نے کہا: مجھے یہ بیماری کبھی لاحق نہیں ہوئی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص یہ چاہتا ہو کہ وہ جہنمی کو دیکھے اُسے اس شخص کو دیکھ لینا چاہیے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اسے میرے پاس سے لے جاؤ “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حسن بن ابوجعفر ہے ، عمرو بن علی بیان کرتے ہیں : یہ صدوق اور منکر الحدیث ہے ۔ ابن عدی کہتے ہیں : یہ صدوق ہے یہ ان افراد میں سے ایک ہے ، جو جان بوجھ کر غلط بیانی نہیں کرتے ہیں اس کے حوالے سے صالح احادیث منقول ہیں ۔