حدیث نمبر: 3752
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : دَخَلَ أَعْرَابِيٌّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " هَلْ أَخَذَتْكَ أُمُّ مِلْدَمٍ ؟ " قَالَ : وَمَا أُمُّ مِلْدَمٍ ؟ قَالَ : " حَرٌّ بَيْنَ الْجِلْدِ وَاللَّحْمِ " قَالَ : مَا وَجَدْتُ هَذَا قَطُّ قَالَ : " فَهَلْ أَخَذَكَ هَذَا الصُّدَاعُ ؟ " قَالَ : وَمَا الصُّدَاعُ ؟ قَالَ : " عِرْقٌ يَضْرِبُ عَلَى الْإِنْسَانِ فِي رَأْسِهِ " قَالَ : مَا وَجَدْتُ هَذَا قَطُّ ! ! فَلَمَّا وَلَّى قَالَ : " مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَلْيَنْظُرْ إِلَى هَذَا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ ، وَقَالَ أَحْمَدُ فِي رِوَايَةٍ : مَرَّ بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَعْرَابِيٌّ فَأَعْجَبَهُ صِحَّتُهُ وَجِلْدُهُ فَدَعَاهُ فَذَكَرَ نَحْوَهُ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دیہاتی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت کیا : تمہیں کبھی بخار ہوا ہے ؟ اس نے دریافت کیا : بخار کیا ہوتا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ ایک تپش ہوتی ہے ، جو جلد اور گوشت کے درمیان ہوتی ہے اس نے کہا: میں نے یہ صورت حال کبھی نہیں پائی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تمہیں کبھی صداع ہوا ہے ؟ اس نے دریافت کیا : صداع کیا ہوتا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ ایک رگ ہے ، جو انسان کے سر میں ضرب لگاتی ہے ( شاید اس سے مراد بلند فشار دم ہے ) اس نے کہا: میں نے یہ صورت حال بھی کبھی نہیں پائی ہے ، جب وہ شخص چلا گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص یہ چاہتا ہو کہ کسی جہنمی کو دیکھے اسے اس شخص کو دیکھ لینا چاہیے “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ ایک روایت میں امام أحمد نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک دیہاتی کے پاس سے ہوا اس کی صحت اور جسمانی حالت آپ کو اچھی لگی آپ نے اسے بلوایا “ اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 3752
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔