حدیث نمبر: 3731
وَبِسَنَدِهِ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ اللَّهَ لَيُجَرِّبُ أَحَدَكُمْ بِالْبَلَاءِ كَمَا يُجَرِّبُ أَحَدُكُمْ ذَهَبَهُ بِالنَّارِ فَمِنْهُ مَا يَخْرُجُ كَالذَّهَبِ الْإِبْرِيزِ فَذَاكَ حَمَاهُ اللَّهُ مِنَ الشُّبُهَاتِ ، وَمِنْهُ مَا يَخْرُجُ دُونَ ذَلِكَ فَذَلِكَ الَّذِي يَشُكُّ بَعْضَ الشَّكِّ ، وَمِنْهُ مَا يَخْرُجُ كَالذَّهَبِ الْأَسْوَدِ فَذَاكَ الَّذِي افْتُتِنَ " . ¤
محمد محی الدین

اسی سند کے ساتھ سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان منقول ہے : ” اللہ تعالیٰ تم میں سے کسی ایک شخص کی آزمائش کے ذریعے جانچ کرتا ہے ، جس طرح تم میں سے کوئی ایک شخص آگ کے ذریعے اپنے سونے کو جانچتا ہے ، تو اس میں سے جو نکلتا ہے وہ خالص سونے کی مانند ہوتا ہے ، تو یہ وہ شخص ہو گا جسے اللہ تعالی نے شبہات سے بچا لیا ہو ، اور اس میں سے کچھ ایسی چیز بھی نکلتی ہے ، جو اس سے کم ہوتی ہے ، تو یہ وہ شخص ہو گا ، جو کچھ شک کا شکار ہو ، اور اس میں سے وہ چیز بھی نکلتی ہے ، جو سیاہ سونے کی مانند ہوتی ہے تو یہ وہ شخص ہے ، جسے فتنہ کا شکار کیا گیا ہو گا“ ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 3731
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «المعجم الكبير للطبراني، باب الصاد ، ما أسند أبو أمامة ، عفير بن معدان ، 7556، المستدرك على الصحيحين للحاكم ، كتاب الرقاق ، حديث 7949 ، شعب الإيمان للبيهقي، التاسع والثلاثون من شعب الإيمان فصل فى ذكر ما فى الأوجاع والأمراض والمصيبات من الكفارات 9542»