مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الجنائز— جنائز کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الْمُعَافَى الشَّاكِرِ وَالْمُبْتَلَى الصَّابِرِ . باب: عافیت والے شکرگزار اور آزمائش کا شکار صبر کرنے والے شخص کا بیان
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْعَافِيَةَ وَمَا أَعَدَّ اللَّهُ لِصَاحِبِهَا مِنْ جَزِيلِ الثَّوَابِ إِذَا هُوَ شَكَرَ وَذَكَرَ الْبَلَاءَ وَمَا أَعَدَّ اللَّهُ لِصَاحِبِهِ مِنْ جَزِيلِ الثَّوَابِ إِذَا هُوَ صَبَرَ ، فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ لَأَنْ أُعَافَى فَأَشْكُرُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أُبْتَلَى فَأَصْبِرُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " وَرَسُولُ اللَّهِ يُحِبُّ مَعَكَ الْعَافِيَةَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَالصَّغِيرِ وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْبَرَاءَ بْنَ النَّضْرِ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عافیت کا ذکر کیا ، اور عافیت والے شخص کے لئے اللہ تعالیٰ نے جو عظیم اجر و ثواب تیار کیا ہے اس کا ذکر کیا جب کہ وہ بندہ شکر کرتا ہو ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آزمائش کا ذکر کیا ، اور جب آزمائش کا شکار شخص صبر کرتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے جو عظیم اجر و ثواب تیار کیا ہے اس کا ذکر کیا ، تو سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں عافیت میں رہوں اور شکر کروں یہ میرے نزدیک اس سے زیادہ پسندیدہ ہے کہ میں کسی آزمائش کا شکار ہو کر صبر کروں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ کے رسول بھی تمہارے ساتھ عافیت کو پسند کرتے ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن براء بن نضر ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔