مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
أبواب العيدين— عیدین سے متعلق ابواب
بَابٌ ثَالِثٌ مِنْهُ . باب: اس سے متعلق تیسرا بیان
حدیث نمبر: 3710
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ : مَنْ قَرَأَ سُورَةَ الْأَعْرَافِ أَوِ النَّجْمِ أَوِ اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ أَوْ إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ أَوْ بَنِي إِسْرَائِيلَ فَشَاءَ أَنْ يَرْكَعَ بِآخِرِهِنَّ رَكَعَ أَجَزَأَهُ سُجُودُ الرُّكُوعِ ، وَإِنْ سَجَدَ فَلْيُضِفْ إِلَيْهَا سُورَةً أُخْرَى . ¤ رَوَاهُمَا الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّهُمَا مُنْقَطِعَانِ بَيْنَ إِبْرَاهِيمَ وَابْنِ مَسْعُودٍ . ¤محمد محی الدین
ان کے حوالے سے یہ روایت بھی منقول ہے : وہ فرماتے ہیں ، جو شخص سورت اعراف یا سورت «نجم» یا سورت «اقرا باسم ربك الذى خلق» یا سورت «انشقاق» یا سورت «بني اسرائيل» پڑھتا ہے ، تو اگر وہ چاہے ، تو اس کے آخر میں رکوع میں چلا جائے تو یہ اس کے لئے کفایت کر جائے گا کہ وہ سجدے کی جگہ رکوع میں چلا جائے اور اگر وہ سجدہ کر لے تو پھر وہ اس کے ساتھ دوسری سورت ملا لے یہ دونوں روایات امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہیں اور ان دونوں کے رجال ثقہ ہیں تاہم ابراہیم نامی راوی اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے درمیان ان کی سند منقطع ہے ۔