حدیث نمبر: 3690
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّهُ رَأَى رُؤْيَا أَنَّهُ يَكْتُبُ ( ص ) فَلَمَّا بَلَغَ إِلَى سَجْدَتِهَا قَالَ : رَأَى الدَّوَاةَ وَالْقَلَمَ وَكُلَّ شَيْءٍ بِحَضْرَتِهِ انْقَلَبَ سَاجِدًا قَالَ : فَقَصَصْتُهَا عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمْ يَزَلْ يَسْجُدُ بِهَا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے خواب دیکھا کہ وہ سورت ” ص“ لکھ رہے ہیں جب وہ سجدے کے مقام پر پہنچے تو انہوں نے دیکھا کہ دوات قلم اور وہاں موجود ہر چیز سجدے میں چلی گئی ہے وہ بیان کرتے ہیں : میں نے یہ خواب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنایا تو اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس سورت میں ہمیشہ سجدہ تلاوت کیا کرتے تھے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 3691
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : رَأَيْتُ فِيمَا يَرَى النَّائِمُ كَأَنِّي تَحْتَ شَجَرَةٍ وَكَأَنَّ الشَّجَرَةَ تَقْرَأُ ( ص ) فَلَمَّا أَتَتْ عَلَى السَّجْدَةِ سَجَدَتْ فَقَالَتْ فِي سُجُودِهَا : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي بِهَا اللَّهُمَّ حُطَّ عَنِّيَ بِهَا وِزْرًا وَأَحْدِثْ لِي بِهَا شُكْرًا وَتَقَبَّلْهَا مِنِّي كَمَا تَقَبَّلْتَ مِنْ عَبْدِكَ دَاوُدَ سَجْدَتَهُ فَغَدَوْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ : " سَجَدْتَ أَنْتَ ؟ " قُلْتُ : لَا قَالَ : " فَأَنْتَ أَحَقُّ بِالسُّجُودِ مِنَ الشَّجَرَةِ " ، ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سُورَةَ ( ص ) ثُمَّ أَتَى عَلَى السَّجْدَةِ وَقَالَ فِي سُجُودِهِ مَا قَالَتِ الشَّجَرَةُ فِي سُجُودِهَا . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " قَالَتِ : اللَّهُمَّ اكْتُبْ لِي بِهَا أَجْرًا " وَالْبَاقِي بِنَحْوِهِ وَفِيهِ الْيَمَانُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ الذَّهَبِيُّ : مَجْهُولٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے خواب میں دیکھا کہ جیسے میں ایک درخت کے نیچے موجود ہوں اور وہ درخت سورت ” ص “ کی تلاوت کر رہا ہے ، جب وہ سجدے کے مقام پر پہنچا تو وہ سجدے میں چلا گیا اور اس نے سجدے میں یہ پڑھا : ” اے اللہ ! تو اس کی وجہ سے میری مغفرت کر دے اے اللہ ! تو اس کی وجہ سے میرے گناہوں کو ختم کر دے اور اس کی وجہ سے مجھے شکر نصیب فرما اور اسے میری طرف سے قبول فرما لے ، جس طرح تو نے اپنے بندے سیدنا داؤد سے ان کے سجدے کو قبول کیا تھا “ ۔ راوی کہتے ہیں : اگلے دن میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو اس بارے میں بتایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے ابوسعید ! کیا تم نے سجدہ کیا تھا ؟ میں نے عرض کی : جی نہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تو درخت کے مقابلے میں تم سجدہ کرنے کے زیادہ حق دار تھے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورت ” ص “ تلاوت کی ، جب آپ سجدے کے مقام پر پہنچے تو آپ نے سجدے کے دوران وہی کلمات کہے ، جو درخت نے سجدے میں کہے تھے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : اس درخت نے یہ کہا: ” اے اللہ ! اس سجدے کی وجہ سے میرے لئے اجر کو نوٹ کر لے “ ۔ اس کے علاوہ باقی الفاظ حسب سابق ہیں اس کی سند میں ایک راوی یمان بن نصر ہے ۔ امام ذہبی کہتے ہیں : یہ مجہول ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : اس درخت نے یہ کہا: ” اے اللہ ! اس سجدے کی وجہ سے میرے لئے اجر کو نوٹ کر لے “ ۔ اس کے علاوہ باقی الفاظ حسب سابق ہیں اس کی سند میں ایک راوی یمان بن نصر ہے ۔ امام ذہبی کہتے ہیں : یہ مجہول ہے ۔
حدیث نمبر: 3692
وَعَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : أَلَا هِيَ هِيَ تَوْبَةُ نَبِيٍّ ذُكِرَتْ فَكَانَ لَا يَسْجُدُ فِيهَا يَعْنِي : ( صَ ) . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
مسروق بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں یہ ایک نبی کی ، توبہ کا واقعہ ذکر ہوا ہے راوی کہتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اس میں یعنی سورت ” ص “ میں سجدہ تلاوت نہیں کیا کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں اور صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں اور صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 3693
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَجَدَ فِي ( ص ) . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَأَبُو يَعْلَى وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو وَفِيهِ كَلَامٌ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورت ” ص “ میں سجدہ تلاوت کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عمرو ہے ، جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہوتی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عمرو ہے ، جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہوتی ہے ۔
حدیث نمبر: 3694
وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ أَنَّهُ سَجَدَ فِي ص رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات مشہور ہے کہ انہوں نے سورت ” ص “ میں سجدہ تلاوت کیا تھا ۔
یہ روایت عبداللہ بن أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت عبداللہ بن أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 3695
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ : عَزَائِمُ السُّجُودِ أَرْبَعٌ : الم تَنْزِيلُ السَّجْدَةِ وَحم السَّجْدَةِ وَالنَّجْمُ وَاقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْحَارِثُ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : لازمی طور پر کیے جانے والے سجدے چار ہیں : وہ جو سورت الم تنزیل السجدہ میں ہے ، جو سورت «حم السجده» میں ہے ، جو سورت «نجم» میں ہے ، اور جو سورت« اقرا باسم ربك» میں ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حارث ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حارث ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 3696
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ : أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ كَانَ يَسْجُدُ فِي الْآيَةِ الْأُولَى مِنْ حم تَنْزِيلٌ مِنَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
عبدالرحمن بن یزید اور عبدالرحمن بن اسود بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ «حم * تَنْزِيلٌ من الرحمن الرحيم» کی پہلی آیت میں سجدہ تلاوت کیا کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 3697
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كُتِبَتْ عِنْدَهُ سُورَةُ وَالنَّجْمِ فَلَمَّا بَلَغَ السَّجْدَةَ سَجَدَ وَسَجَدْنَا مَعَهُ وَسَجَدَتِ الدَّوَاةُ وَالْقَلَمُ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے پاس سورت نجم تحریر کروا رہے تھے ، جب آپ سجدے کے مقام پر پہنچے تو آپ نے سجدہ کیا آپ کے ساتھ ہم نے بھی سجدہ کیا دوات اور قلم نے بھی سجدہ کیا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 3698
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ - رَحِمَهُ اللَّهُ - قَالَ : صَلَّيْتُ خَلْفَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَقَرَأَ السَّجْدَةَ فِي الْمَكْتُوبَةِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ وَفِيهِ كَلَامٌ وَقَدْ وَثَّقَهُ شُعْبَةُ وَالثَّوْرِيُّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے تین مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے اس طرح نماز ادا کی ہے کہ آپ نے فرض نماز میں آیت سجدہ تلاوت کی تھی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے ، جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے شعبہ اور ثوری نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے ، جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے شعبہ اور ثوری نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 3699
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : سَجَدَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَالْمُسْلِمُونَ فِي النَّجْمِ إِلَّا رَجُلَيْنِ مِنْ قُرَيْشٍ أَرَادَا بِذَلِكَ الشُّهْرَةَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَأَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں نے سورت نجم میں سجدہ تلاوت کیا قریش سے تعلق رکھنے والے دو افراد نے ایسا نہیں کیا ان دونوں نے اس کے ذریعے مشہور ہونے کا ارادہ کیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 3700
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالنَّجْمِ فَلَمَّا بَلَغَ السَّجْدَةَ سَجَدَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بَشِيرٍ وَهُوَ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورت نجم کی تلاوت کی جب آپ سجدے کے مقام پر پہنچے تو آپ نے سجدہ کیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن بشر ہے ، اور وہ منکر الحدیث ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن بشر ہے ، اور وہ منکر الحدیث ہے ۔
حدیث نمبر: 3701
وَعَنْ عَمْرٍو الْجِنِّيِّ قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَرَأَ سُورَةَ النَّجْمِ فَسَجَدَ وَسَجَدْتُ مَعَهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِي إِسْنَادِهِ مَنْ لَا يُعْرَفُ ، وَعُثْمَانُ بْنُ صَالِحٍ لَا أَرَاهُ أَدْرَكَ أَحَدًا مِنَ الصَّحَابَةِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمرو جنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا آپ نے سورت نجم کی تلاوت کی ، تو آپ نے سجدہ کیا میں نے بھی آپ کے ساتھ سجدہ کیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جو معروف نہیں ہے عثمان بن صالح نامی راوی کے بارے میں میرا یہ خیال نہیں ہے کہ اس نے صحابہ کرام میں سے کسی کا زمانہ پایا ہو باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جو معروف نہیں ہے عثمان بن صالح نامی راوی کے بارے میں میرا یہ خیال نہیں ہے کہ اس نے صحابہ کرام میں سے کسی کا زمانہ پایا ہو باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
حدیث نمبر: 3702
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَرَأَ : وَالنَّجْمِ بِمَكَّةَ فَسَجَدَ وَسَجَدَ النَّاسُ مَعَهُ حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ لِيَرْفَعُ إِلَى جَبِينِهِ شَيْئًا مِنَ الْأَرْضِ فَسَجَدَ عَلَيْهِ ، وَحَتَّى يَسْجُدَ [ الرَّجُلُ ] عَلَى الرَّجُلِ . ¤ قُلْتُ : لَهُ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ بِغَيْرِ هَذَا السِّيَاقِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُصْعَبُ بْنُ ثَابِتٍ وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ میں سورت نجم کی تلاوت کی ، تو آپ نے سجدہ کیا آپ کے ساتھ لوگوں نے بھی سجدہ کیا یہاں تک کہ ایک شخص نے زمین سے کوئی چیز اٹھا کر اپنی پیشانی تک بلند کی اور اس پر سجدہ کر لیا اور ایک شخص نے دوسرے شخص پر سجدہ کیا ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان کے حوالے سے ” صحیح “ میں ایک حدیث منقول ہے ، جو اس سیاق کے بغیر ہے
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مصعب بن ثابت ہے ، جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، جبکہ امام أحمد اور دیگر حضرات نے اسے ” ضعیف“ قرار دیا ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان کے حوالے سے ” صحیح “ میں ایک حدیث منقول ہے ، جو اس سیاق کے بغیر ہے
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مصعب بن ثابت ہے ، جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، جبکہ امام أحمد اور دیگر حضرات نے اسے ” ضعیف“ قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 3703
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ كَانَ إِذَا قَرَأَ وَالنَّجْمِ عَلَى النَّاسِ سَجَدَهَا وَإِذَا قَرَأَهَا فِي الصَّلَاةِ رَكَعَ بِهَا وَسَجَدَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ سِيرِينَ لَا أَرَاهُ سَمِعَ مِنِ ابْنِ مَسْعُودٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : جب انہوں نے لوگوں کے سامنے سورت نجم کی تلاوت کی ، تو انہوں نے اس میں سجدہ کیا ، اور جب انہوں نے اس کو نماز میں پڑھا تو انہوں نے اس میں رکوع کیا ، اور ( پھر ) سجدہ کیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں صرف محمد بن سیرین کا معاملہ مختلف ہے میرا نہیں خیال کہ انہوں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع کیا ہو گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں صرف محمد بن سیرین کا معاملہ مختلف ہے میرا نہیں خیال کہ انہوں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع کیا ہو گا ۔
حدیث نمبر: 3704
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : رَأَيْتُهُ سَجَدَ فِي إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ . ¤ [ عَشْرَ مِرَارٍ ] رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي لَيْلَى وَفِيهِ كَلَامٌ ، وَأَبُو سَلَمَةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِيهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سورت انشقاق میں سجدہ تلاوت کرتے ہوئے دس مرتبہ دیکھا ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابولیلی ہے ، جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ابوسلمہ نامی راوی نے اپنے والد سے سماع نہیں کیا ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابولیلی ہے ، جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ابوسلمہ نامی راوی نے اپنے والد سے سماع نہیں کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 3705
وَعَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَجَدَ فِي إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عُقْبَةَ بْنِ أَبِي الْعَيْزَارِ وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورت انشقاق میں سجدہ تلاوت کیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عقبہ بن ابوعیزار ہے ، اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عقبہ بن ابوعیزار ہے ، اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 3706
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّهُ صَلَّى الصُّبْحُ فَقَرَأَ إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ فَسَجَدَ فِيهَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : انہوں نے صبح کی نماز ادا کرتے ہوئے اس میں سورت انشقاق کی تلاوت کی اور اس میں سجدہ تلاوت کیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 3707
وَعَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ : رَأَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ وَعُمَرَ أَوْ أَحَدَهُمَا يَسْجُدُ فِي إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ وَرَوَاهُ أَيْضًا عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ مِنْ غَيْرِ شَكٍّ ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
اسود بن یزید بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھا ہے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) ان دونوں میں سے کسی ایک کو دیکھا ہے کہ وہ سورت انشقاق میں سجدہ تلاوت کر رہے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، انہوں نے
یہ روایت سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے حوالے سے کسی شک کے بغیر بھی نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، انہوں نے
یہ روایت سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے حوالے سے کسی شک کے بغیر بھی نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حدیث نمبر: 3708
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ كَانَ يَسْجُدُ فِي النَّجْمِ وَاقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ سورت «نجم» میں اور سورت «اقرا باسم ربك الذى خلق» میں سجدہ تلاوت کیا کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 3709
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : مَنْ قَرَأَ الْأَعْرَافَ وَالنَّجْمَ وَاقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ فَإِنْ شَاءَ رَكَعَ بِهَا وَقَدْ أَجَزَأَ عَنْهُ ، وَإِنْ شَاءَ سَجَدَ ثُمَّ قَامَ فَقَرَأَ السُّورَةَ وَسَجَدَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جو شخص سورت اعراف سورت «نجم» اور سورت «اقرا باسم ربك الذى خلق» پڑھتا ہے ، تو اگر وہ چاہے ، تو اس کی ( آیت سجدہ تلاوت کرنے کے بعد ) رکوع میں چلا جائے تو یہ اس کی طرف سے کفایت کر جائے گا ، اور اگر وہ چاہے ، تو سجدہ کر لے پھر وہ کھڑا ہو کر کوئی اور سورت پڑھے پھر رکوع کرے اور سجدے میں جائے ۔
حدیث نمبر: 3710
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ : مَنْ قَرَأَ سُورَةَ الْأَعْرَافِ أَوِ النَّجْمِ أَوِ اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ أَوْ إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ أَوْ بَنِي إِسْرَائِيلَ فَشَاءَ أَنْ يَرْكَعَ بِآخِرِهِنَّ رَكَعَ أَجَزَأَهُ سُجُودُ الرُّكُوعِ ، وَإِنْ سَجَدَ فَلْيُضِفْ إِلَيْهَا سُورَةً أُخْرَى . ¤ رَوَاهُمَا الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّهُمَا مُنْقَطِعَانِ بَيْنَ إِبْرَاهِيمَ وَابْنِ مَسْعُودٍ . ¤
محمد محی الدین
ان کے حوالے سے یہ روایت بھی منقول ہے : وہ فرماتے ہیں ، جو شخص سورت اعراف یا سورت «نجم» یا سورت «اقرا باسم ربك الذى خلق» یا سورت «انشقاق» یا سورت «بني اسرائيل» پڑھتا ہے ، تو اگر وہ چاہے ، تو اس کے آخر میں رکوع میں چلا جائے تو یہ اس کے لئے کفایت کر جائے گا کہ وہ سجدے کی جگہ رکوع میں چلا جائے اور اگر وہ سجدہ کر لے تو پھر وہ اس کے ساتھ دوسری سورت ملا لے یہ دونوں روایات امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہیں اور ان دونوں کے رجال ثقہ ہیں تاہم ابراہیم نامی راوی اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے درمیان ان کی سند منقطع ہے ۔
حدیث نمبر: 3711
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : إِذَا كَانَتِ السَّجْدَةُ آخِرَ السُّورَةِ فَارْكَعْ إِنْ شِئْتَ أَوِ اسْجُدْ فَإِنَّ السَّجْدَةَ مَعَ الرَّكْعَةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جب سجدہ سورت کے آخر میں ہو ، تو اگر تم چاہو تو رکوع میں چلے جاؤ اور اگر چاہو تو سجدے میں چلے جاؤ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 3712
وَمِنْهُ أَيْضًا قَالَ : إِذَا كَانَتِ السَّجْدَةُ آخِرَ السُّورَةِ فَارْكَعْ إِنْ شِئْتَ أَوِ اسْجُدْ فَإِنَّ السَّجْدَةَ مَعَ الرَّكْعَةِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ان کے حوالے سے یہ بات بھی منقول ہے : وہ فرماتے ہیں : جب سجدہ سورت کے آخر میں ہو ، تو اگر تم چاہو تو رکوع میں چلے جاؤ یا پھر سجدے میں چلے جاؤ سجدہ رکوع کے ساتھ ہی ہوتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔