مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
أبواب العيدين— عیدین سے متعلق ابواب
بَابُ صَلَاةِ الشُّكْرِ . باب: نماز شکر کا بیان
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ : كَانَ لَا يُفَارِقُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَوْ بَابَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَمْسَةٌ أَوْ أَرْبَعَةٌ مِنْ أَصْحَابِهِ فَخَرَجَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَاتَّبَعْتُهُ فَدَخَلَ حَائِطًا مِنْ حِيطَانِ الْأَسْوَاقِ فَصَلَّى فَأَطَالَ السُّجُودَ فَقُلْتُ : قَبَضَ اللَّهُ رَوْحَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا أَرَاهُ أَبَدًا فَحَزِنْتُ وَبَكَيْتُ فَرَفَعَ رَأْسَهُ فَدَعَانِي فَقَالَ : " مَا الَّذِي بِكَ ؟ أَوْ مَا الَّذِي أَرَى بِكَ ؟ " قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَطَلْتَ السُّجُودَ فَقُلْتُ : قَدْ قَبَضَ اللَّهُ رَسُولَهُ لَا أَرَاهُ أَبَدًا فَحَزِنْتُ وَبَكَيْتُ قَالَ : " سَجَدْتُ هَذِهِ السَّجْدَةَ شُكْرًا لِرَبِّي فِيمَا أَبْلَانِي مِنْ أُمَّتِي ، أَنَّهُ قَالَ : مَنْ صَلَّى عَلَيْكَ مِنْهُمْ صَلَاةً كَتَبْتُ لَهُ عَشْرَ حَسَنَاتٍ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَلَهُ حَدِيثٌ فِي سُجُودِ الشُّكْرِ يَأْتِي . ¤سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے پانچ یا چار آدمی کبھی بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے سے جدا نہیں ہوتے تھے ایک رات آپ باہر تشریف لائے میں آپ کے پیچھے چل پڑا آپ ایک باغ میں آئے وہاں آپ نے نماز ادا کی اور طویل سجدہ کیا میں نے سوچا : شاید اللہ تعالی نے اپنے رسول کی روح کو قبض کر لیا ہے اب میں آپ کو کبھی نہیں دیکھ پاؤں گا یہ سوچ کر میں غمگین ہو گیا اور رونے لگا آپ نے اپنے سر کو اٹھایا اور مجھے بلایا اور فرمایا : تمہیں کیا ہوا ہے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) وہ چیز کیا ہے ، جو میں تم میں دیکھ رہا ہوں میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ نے سجدے کو اتنا طول دیا کہ میں نے یہ سوچا کہ شاید اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی روح کو قبض کر لیا ہے ، اور اب میں انہیں کبھی نہیں دیکھ پاؤں گا اس بات پر میں غمگین ہوا اور رونے لگا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں نے یہ سجدہ اپنے پروردگار کا شکر کرنے کے لئے کیا تھا جو شکر اس چیز کی وجہ سے تھا جو اس نے میری امت کو عطا کی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : پروردگار نے فرمایا : ” ان لوگوں میں سے جو شخص تم پر ایک مرتبہ درود بھیجے گا اس کے لئے دس نیکیاں نوٹ کر لی جائیں گی “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے اس کے حوالے سے ایک حدیث سجدہ شکر سے متعلق باب میں آگے آئے گی ۔