مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
أبواب العيدين— عیدین سے متعلق ابواب
بَابُ صَلَاةِ سَيِّدِنَا رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . باب: سیدنا رسول اللہ ﷺ کی ( نفل ) نماز
وَعَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ عَمْرٍو الْمَازِنِيِّ قَالَ : أَيَحْسَبُ أَحَدُكُمْ إِذَا قَامَ يُصَلِّي حَتَّى يُصْبِحَ أَنْ قَدْ تَهَجَّدَ ، إِنَّمَا التَّهَجُّدُ فِي الصَّلَاةِ بَعْدَ رَقْدَةٍ ثُمَّ الصَّلَاةِ بَعْدَ رَقْدَةٍ ، وَتِلْكَ كَانَتْ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ بِبَعْضِهِ وَفِي بَعْضِهَا : كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَتَهَجَّدُ بَعْدَ نَوْمِهِ وَكَانَ يَسْتَنُّ قَبْلَ أَنْ يَتَهَجَّدَ وَمَدَارُهُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَالِحٍ كَاتِبِ اللَّيْثِ ، قَالَ فِيهِ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبٍ ، ابْنُ اللَّيْثِ : ثِقَةٌ مَأْمُونٌ ، وَضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ . ¤سیدنا حجاج بن عمرو مازنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : تم میں سے کوئی ایک شخص یہ سمجھتا ہے کہ جو شخص صبح ہونے تک مسلسل نماز ادا کرتا رہے اس نے تہجد ادا کر لی ، حالانکہ تہجد یہ ہوتی ہے کہ سونے کے بعد نماز ادا کی جائے ، پھر سونے کے بعد نماز ادا کی جائے ، یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا طریقہ تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ، بعض روایات میں یہ الفاظ ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سونے کے بعد ( بیدار ہو کر ) تہجد ادا کرتے تھے ، اور آپ تہجد سے پہلے مسواک کیا کرتے تھے ۔ اس روایت کا مدار عبداللہ بن صالح پر ہے ، جو لیث کا کاتب ہے ، اس کے بارے میں عبدالملک بن شعیب بن لیث نے یہ کہا: ہے : یہ ثقہ اور مامون ہے ، امام أحمد اور دیگر حضرات نے اسے ” ضعیف“ قرار دیا ہے ۔