مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
أبواب العيدين— عیدین سے متعلق ابواب
بَابُ صَلَاةِ سَيِّدِنَا رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . باب: سیدنا رسول اللہ ﷺ کی ( نفل ) نماز
حدیث نمبر: 3661
وَعَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ غَزِيَّةَ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : يَحْسَبُ أَحَدُكُمْ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ يُصَلِّي حَتَّى يُصْبِحَ أَنَّهُ قَدْ تَهَجَّدَ ، إِنَّمَا التَّهَجُّدُ : الْمَرْءُ يُصَلِّي الصَّلَاةَ بَعْدَ رَقْدَةٍ ثُمَّ الصَّلَاةَ بَعْدَ رَقْدَةٍ وَتِلْكَ كَانَتْ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَلَهُ إِسْنَادٌ صَحِيحٌ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤محمد محی الدین
سیدنا حجاج بن غزیہ رضی اللہ عنہ ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں ، وہ فرماتے ہیں : تم لوگ یہ سمجھتے ہو کہ جب کوئی شخص رات کو نوافل ادا کرتا رہے ، اور صبح ہونے تک مسلسل نماز ادا کرتا ہے ، تو اُس نے تہجد ادا کر لی ، حالانکہ تہجد ادا کرنے والا شخص وہ ہوتا ہے ، جو کچھ دیر سونے کے بعد نماز ادا کرے ، پھر کچھ دیر سونے کے بعد نماز ادا کرے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز اسی طرح ہوتی تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ یہ صحیح سند کے ساتھ منقول ہے ، اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔