حدیث نمبر: 3650
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي فِي حُجْرَتِهِ فَجَاءَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ فَصَلَّوْا بِصَلَاتِهِ قَالَ : فَدَخَلَ الْبَيْتَ ثُمَّ خَرَجَ فَعَادَ مِرَارًا ، كُلُّ ذَلِكَ يُصَلِّي فَلَمَّا أَصْبَحَ قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّيْنَا مَعَكَ وَنَحْنُ نُحِبُّ أَنْ تَمُدَّ فِي صَلَاتِكَ قَالَ : " قَدْ عَلِمْتُ بِمَكَانِكُمْ وَعَمْدًا فَعَلْتُ ذَلِكَ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ ، ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے حجرے میں نماز ادا کر رہے تھے ، آپ کے اصحاب میں سے کچھ لوگ آئے ، اور آپ کی پیروی میں نماز ادا کرنے لگے ، راوی بیان کرتے ہیں : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھر تشریف لے گئے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ، ایسا کئی مرتبہ ہوا ، ہر مرتبہ آپ نماز ادا کرتے تھے ، جب صبح ہوئی ، تو لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز ادا کی تھی ، ہماری یہ خواہش تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز کو طول دیتے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تمہاری موجودگی کے بارے میں مجھے پتہ تھا ، لیکن میں نے جان بوجھ کے ایسا کیا ہے ( یعنی تمہیں نماز نہیں پڑھائی ) ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3650
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «مسند أحمد بن حنبل، مسند أنس بن مالك رضي الله تعالي عنه، 11796 مسند عبد بن حميد ، مسند أنس بن مالك حديث 1411 مسند أبى يعلى الموصلي، حميد الطويل»