مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
أبواب العيدين— عیدین سے متعلق ابواب
بَابُ صَلَاةِ سَيِّدِنَا رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . باب: سیدنا رسول اللہ ﷺ کی ( نفل ) نماز
وَعَنْ جَسْرَةَ بِنْتِ دَجَاجَةَ أَنَّهَا انْطَلَقَتْ مُعْتَمِرَةً فَانْتَهَتْ إِلَى الرَّبَذَةِ فَسَمِعَتْ أَبَا ذَرٍّ يَقُولُ : قَامَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَيْلَةً مِنَ اللَّيَالِي فَصَلَّى بِالْقَوْمِ ثُمَّ تَخَلَّفَ أَصْحَابُهُ يُصَلُّونَ فَلَمَّا رَأَى قِيَامَهُمْ وَتَخَلُّفَهُمُ انْصَرَفَ إِلَى رَحْلِهِ ، فَلَمَّا رَأَى الْقَوْمَ قَدْ أَخْلَوُا الْمَكَانَ رَجَعَ إِلَى مَكَانِهِ فَصَلَّى فَقُمْتُ خَلْفَهُ فَأَوْمَأَ إِلَيَّ بِيَمِينِهِ فَقُمْتُ عَنْ يَمِينِهِ ثُمَّ جَاءَ ابْنُ مَسْعُودٍ فَقَامَ خَلْفِي وَخَلْفَهُ فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ بِشَمَالِهِ فَقَامَ عَنْ شِمَالِهِ ، فَقُمْنَا ثَلَاثَتُنَا نُصَلِّي كُلُّ رَجُلٍ مِنَّا لِنَفْسِهِ وَيَتْلُو مِنَ الْقُرْآنِ مَا شَاءَ أَنْ يَتْلُوَ فَقَامَ بِآيَةٍ مِنَ الْقُرْآنِ يُرَدِّدُهَا حَتَّى صَلَّى الْغَدَاةَ فَبَعْدَ أَنْ أَصْبَحْنَا أَوْمَأْتُ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنْ يَسْأَلَهُ إِلَى مَا أَرَادَ إِلَى مَا صَنَعَ الْبَارِحَةَ فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ : لَا أَسْأَلُهُ عَنْ شَيْءٍ حَتَّى يُحَدِّثَ إِلَيَّ فَقُلْتُ : بِأَبِي وَأُمِّي قُمْتَ بِآيَةٍ مِنَ الْقُرْآنِ وَمَعَكَ الْقُرْآنُ لَوْ فَعَلَ هَذَا بَعْضُنَا وَجَدْنَا عَلَيْهِ كَثِيرًا قَالَ : " دَعَوْتُ لِأُمَّتِي " قَالَ : فَمَاذَا أُجِبْتَ ، أَوْ مَاذَا رُدَّ عَلَيْكَ ؟ قَالَ : " أُجِبْتُ بِالَّذِي لَوِ اطَّلَعَ عَلَيْهِ كَثِيرٌ مِنْهُمْ طَلْعَةً تَرَكُوا الصَّلَاةَ " قَالَ أَفَلَا أُبَشِّرُ النَّاسَ ؟ قَالَ : " بَلَى " فَانْطَلَقْتُ يَمِينًا قَرِيبًا مِنْ قَذْفَةٍ بِحَجَرٍ قَالَ عُمَرُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ إِنْ تَبْعَثْ إِلَى النَّاسِ بِهَذَا اتَّكَلُوا عَنِ الْعِبَادَةِ ؟ ! فَنَادَاهُ أَنِ ارْجِعْ فَرَجَعَ وَتِلْكَ الْآيَةُ : إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ . ¤ قُلْتُ : رَوَى النَّسَائِيُّ مِنْهُ أَنَّهُ قَامَ بِآيَةٍ حَتَّى أَصْبَحَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤جسره بنت دجاجہ بیان کرتی ہیں : وہ عمرہ کرنے کے لئے گئیں ، وہ ” ربذہ “ پہنچیں ، تو میں نے سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا : ایک رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے ، آپ نے لوگوں کو نماز پڑھانا شروع کی ، آپ کے اصحاب آپ کے پیچھے نماز ادا کرتے رہے ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کے قیام اور ان کے پیچھے موجود ہونے کو ملاحظہ فرمایا ، تو آپ اپنے گھر تشریف لے گئے پھر جب آپ نے یہ دیکھا کہ لوگ اس جگہ سے چلے گئے ہیں ، تو آپ واپس اپنی جگہ پر آ گئے آپ نے نماز ادا کی ، میں آپ کے پیچھے کھڑا ہو کر نماز ادا کرنے لگا ، تو آپ نے اپنے دائیں دست مبارک کے ذریعے میری طرف اشارہ کیا ، تو میں آپ کے دائیں طرف آ کے کھڑا ہو گیا ، پھر عبداللہ بن مسعود آئے اور وہ میرے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہو گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اشارہ کیا کہ بائیں طرف آ جاؤ ! تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں طرف کھڑے ہو گئے ، تو ہم تینوں نے اس طرح کھڑے ہو کر نماز ادا کی کہ ہم میں سے ہر ایک انفرادی طور پر نماز ادا کر رہا تھا اور اس نے قرآن کا جو حصہ پڑھنا تھا وہ پڑھ رہا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کی ایک آیت پڑھتے رہے ، اور اسے دُہراتے رہے ، جب آپ نے صبح کی نماز ادا کر لی ، تو میں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو اشارہ کیا کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کریں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گزشتہ رات جو کیا تھا ، اُس کا مقصد کیا تھا ؟ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی چیز کے بارے میں نہیں پوچھوں گا ، جب تک آپ خود بیان نہیں کر دیتے ، تو میں نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، آپ قرآن کی ایک آیت تلاوت کرتے رہے ، حالانکہ آپ کو اور بھی قرآن آتا ہے ؟ اگر ہم میں سے کوئی ایک شخص ایسا کرتا ، تو ہم اس پر ناراضگی کا اظہار کرتے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں اپنی امت کے لئے دعا کرتا رہا ، سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : پھر آپ کو کیا جواب ملا ؟ ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مجھے جو جواب ملا ، اگر لوگ اس پر مطلع ہو جائیں تو بہت سے لوگ نماز ہی ترک کر دیں ، سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا میں لوگوں کو یہ خوشخبری نہ سناؤں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ٹھیک ہے ، وہ ابھی تھوڑی ہی دور گئے تھے ، اتنی دور کہ جتنا پتھر پھینکیں ، تو پتھر جاتا ہے ، اسی دوران سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ ! آپ اسے لوگوں کی طرف بھیج رہے ہیں ، وہ لوگ عبادت کو چھوڑ کر اسی پر اکتفاء کر لیں گے ، انہوں نے سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کو بلند آواز میں پکارا کہ تم واپس آ جاؤ ! وہ واپس آ گئے ، وہ یہ آیت تھی ( جس کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تلاوت کر رہے تھے : ) ” اگر تو انہیں عذاب دے ، تو یہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو ان کی مغفرت کر دے ، تو بے شک تو غلبے والا ، حکمت والا ہے “ ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام نسائی رحمہ اللہ نے اس روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صبح ہونے تک ایک ہی آیت بار بار پڑھتے رہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔