مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
أبواب العيدين— عیدین سے متعلق ابواب
بَابُ صَلَاةِ سَيِّدِنَا رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . باب: سیدنا رسول اللہ ﷺ کی ( نفل ) نماز
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا صَلَّى الْعِشَاءَ رَكَعَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ وَأَوْتَرَ بِسَجْدَةٍ حَتَّى يُصَلِّيَ بَعْدَ صَلَاتِهِ بِاللَّيْلِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ نَافِعُ بْنُ ثَابِتِ وَثَابِتٌ هُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ ، وَلَمْ يَسْمَعْ نَافِعٌ مِنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ وَلَمْ يُدْرِكْهُ وَإِنَّمَا رَوَى عَنْ أَبِيهِ ثَابِتٍ . ¤سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب عشاء کی نماز ادا کر لیتے تھے ، تو اس کے بعد چار رکعات ادا کرتے تھے ، اور ایک وتر ادا کرتے تھے ، یہ آپ رات کی نماز کے بعد ادا کرتے تھے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ ، اس کی سند میں ایک راوی نافع بن ثابت ہے ( نافع کا والد ثابت ) سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما ان کا بیٹا ہے ، ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ” الثقات“ میں کیا ہے ، نافع نے اپنے دادا سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے سماع نہیں کیا ہے ، اور نہ ہی ان کا زمانہ پایا ہے ، اس نے اپنے والد ثابت کے حوالے سے روایت نقل کی ہے ۔