مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
أبواب العيدين— عیدین سے متعلق ابواب
بَابُ الْجَهْرِ بِالْقُرْآنِ ، وَكَيْفَ يُقْرَأُ . باب: بلند آواز میں قرآن پڑھنا ، اسے کیسے پڑھا جائے ؟
وَعَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ قَيْسٍ قَالَ : بِتُّ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ لَيْلَةً فَقَامَ أَوَّلَ اللَّيْلِ ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي فَكَانَ يَقْرَأُ قِرَاءَةَ الْإِمَامِ فِي مَسْجِدِ حَيِّهِ ، يُرَتِّلُ وَلَا يُرَجِّعُ يُسْمِعُ مَنْ حَوْلَهُ وَلَا يُرَجِّعُ صَوْتَهُ ، حَتَّى لَمْ يَبْقَ مِنَ الْغَلَسِ إِلَّا كَمَا بَيْنَ أَذَانِ الْمَغْرِبِ إِلَى الِانْصِرَافِ مِنْهَا ثُمَّ أَوْتَرَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤علقمہ بن قیس بیان کرتے ہیں : ایک رات میں نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ گزاری ، وہ رات کے ابتدائی حصے میں کھڑے ہوئے اور کھڑے ہو کر نماز ادا کرنے لگے ، وہ اپنے محلے کی مسجد کے امام کی تلاوت کی پیروی کر رہے تھے ، وہ ترتیل کے ساتھ قرآن پڑھ رہے تھے ، ترجیع کے ساتھ نہیں پڑھ رہے تھے ، اپنے آس پاس موجود افراد تک اُن کی آواز جا رہی تھی ، اور وہ اپنی آواز میں ترجیع نہیں کرتے تھے ، یہاں تک کہ جب صبح ہونے میں اتنی دیر رہ گئی ، جتنا مغرب کی اذان سے لے کے نماز سے فارغ ہونے کے درمیان کا وقت ہوتا ہے ، تو انہوں نے وتر ادا کر لیے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔