مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
أبواب العيدين— عیدین سے متعلق ابواب
بَابُ الْجَهْرِ بِالْقُرْآنِ ، وَكَيْفَ يُقْرَأُ . باب: بلند آواز میں قرآن پڑھنا ، اسے کیسے پڑھا جائے ؟
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ صَلَّى مِنْكُمْ بِاللَّيْلِ فَلْيَجْهَرْ بِقِرَاءَتِهِ فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تُصَلِّي بِصَلَاتِهِ وَتَسْمَعُ لِقِرَاءَتِهِ ، وَإِنَّ مُؤْمِنِي الْجِنِّ الَّذِينَ يَكُونُونَ فِي الْهَوَاءِ وَجِيرَانَهُ مَعَهُ فِي مَسْكَنِهِ يُصَلُّونَ بِصَلَاتِهِ وَيَسْتَمِعُونَ قِرَاءَتَهُ وَإِنَّهُ يَطْرُدُ بِجَهْرِهِ بِقِرَاءَتِهِ عَنْ دَارِهِ وَعَنِ الدُّورِ الَّتِي حَوْلَهُ فُسَّاقَ الْجِنِّ وَمَرَدَةَ الشَّيَاطِينِ " . ¤ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَقَدْ تَقَدَّمَ بِطُولِهِ فِي بَابٍ فِي صَلَاةِ اللَّيْلِ وَالْكَلَامِ عَلَيْهِ . ¤سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” تم میں سے جو شخص رات کے وقت ( نفل ) نماز ادا کرے ، اُسے بلند آواز میں تلاوت کرنی چاہیے ، کیونکہ فرشتے اس کی پیروی میں نماز ادا کرتے ہیں ، اور اس کی قرأت کو سنتے ہیں ، اور جنات سے تعلق رکھنے والے مؤمنین ، جو کھلی جگہ پر رہتے ہیں اور اس شخص کے گھر میں اُس کے ساتھ پڑوسی کے طور پر رہتے ہیں ، وہ بھی اُس شخص کی نماز کی اقتداء میں نماز ادا کرتے ہیں ، اور اُس کی تلاوت کو سنتے ہیں ، ایسا شخص بلند آواز میں قرأت کر کے اپنے گھر سے ، اور اپنے آس پاس موجود گھروں سے فاسق جنوں اور مردود شیاطین کو دور کر دیتا ہے “ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ، یہ حدیث اس سے پہلے طویل روایت کے طور پر ، رات کے وقت نماز ادا کرنے سے متعلق باب میں گزر چکی ہے ، اور وہاں اس پر کلام بھی گزر چکا ہے ۔