مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
أبواب العيدين— عیدین سے متعلق ابواب
بَابُ مَا تُسْتَفْتَحُ بِهِ الصَّلَاةَ . باب: نماز کا آغاز کس چیز کے ذریعے کیا جائے ؟
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ وَاسْتَفْتَحَ صَلَاتَهُ وَكَبَّرَ قَالَ : " سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ وَتَبَارَكَ اسْمُكَ وَتَعَالَى جَدُّكَ وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ " ، ثُمَّ يَقُولُ : " لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ " ثَلَاثًا ثُمَّ يَقُولُ : " أَعُوذُ بِاللَّهِ السَّمِيعِ الْعَلِيمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ مَنْ هَمْزِهِ وَنَفْخِهِ وَنَفْثِهِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کے وقت نوافل ادا کرنے کے لئے کھڑے ہوتے تھے ، اور نماز کا آغاز کرنے کے لئے کھڑے ہوتے تھے ، تو تکبیر کے بعد یہ پڑھتے تھے : ” تو ہر عیب سے پاک ہے ، اے اللہ ! اور حمد تیرے لئے مخصوص ہے ، تیرا اسم برکت والا ہے ، تیری بزرگی بلند و برتر ہے ، اور تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے “ ۔ اُس کے بعد آپ تین مرتبہ «لا اله الا الله» پڑھتے تھے ، اور پھر یہ پڑھتے تھے : ” میں سننے والے اور علم رکھنے والے ، اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتا ہوں ، مردود شیطان سے ، اس کے ٹھونگا مارنے ، پھونک مارنے ، لعاب ڈالنے سے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔