مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
أبواب العيدين— عیدین سے متعلق ابواب
بَابُ صَلَاةِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ مَثْنَى مَثْنَى . باب: رات اور دن کی ( نفل ) نماز دو ، دو کر کے ادا کی جائے گی
عَنْ عَمْرِو بْنِ عَنْبَسَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى وَجَوْفُ اللَّيْلِ الْآخِرِ أَجْوَبُهُ دَعْوَةً " قُلْتُ : أَوْجَبُهُ ؟ قَالَ : " لَا أَجْوَبُهُ " يَعْنِي بِذَلِكَ الْإِجَابَةِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ وَهُوَ ضَعِيفٌ وَقَدْ رَوَاهُ مِنْ طَرِيقِهِ أَيْضًا إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " وَجَوْفُ اللَّيْلِ الْآخِرُ أَوْجَبُهُ دَعْوَةً " فَقُلْتُ : أَجْوَبُهُ ؟ قَالَ : " لَا وَلَكِنْ أَوْجَبُهُ " . ¤سیدنا عمرو بن عنبسہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” رات کی نماز دو ، دو کر کے ادا کی جائے گی ، اور رات کے آخری نصف حصے میں ، ( دعا یا عبادت ) زیادہ قبول ہوتی ہے “ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : میں نے اپنے استاد سے دریافت کیا : لفظ ” اجوب “ کا مطلب کیا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : اس سے مراد یہ ہے کہ ( دعا یا عبادت ) قبول ہوتی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر بن ابومریم ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ، انہوں نے اسے اس سند کے ساتھ نقل کیا ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں : ” رات کا آخری نصف حصہ ، دعا کی قبولیت کے لئے زیادہ موزوں ہے “ ۔ میں نے دریافت کیا : لفظ ” اجوب “ کا مطلب کیا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : جی نہیں ! بلکہ یہ لفظ ” اوجب“ ہے ۔