حدیث نمبر: 3575
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : إِذَا رَقَدَ أَحَدُكُمْ عُقِدَ عَلَى رَأْسِهِ بِجَرِيرٍ فَإِنْ قَامَ فَذَكَرَ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - أُطْلِقَتْ وَاحِدَةٌ وَإِنْ مَضَى فَتَوَضَّأَ أُطْلِقَتِ الثَّانِيَةُ فَإِنْ مَضَى فَصَلَّى أُطْلِقَتِ الثَّالِثَةُ فَإِنِ أَصْبَحَ وَلَمْ يَقُمْ شَيْئًا مِنَ اللَّيْلِ وَلَمْ يُصَلِّ الصُّبْحَ أَصْبَحَ وَهُوَ عَلَيْهِ - يَعْنِي الْجَرِيرَ . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ مَرْفُوعًا بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

- سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب کوئی شخص سو جاتا ہے ، تو اس کے سر پر رسی سے گرہ لگا دی جاتی ہے ، اگر وہ اُٹھ کر اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتا ہے ، تو ایک گرہ کھل جاتی ہے ، اگر وہ جا کر وضو کرتا ہے ، تو دوسری گرہ کھل جاتی ہے ، اور اگر وہ جا کر نماز ادا کرتا ہے ، تو تیسری گرہ کھل جاتی ہے ، اور اگر وہ ایسی حالت میں صبح کرے کہ وہ رات کو بیدار ہی نہ ہوا ہو ، اور اُس نے صبح کی نماز ادا نہ کی ہو ، تو وہ ایسی حالت میں صبح کرتا ہے کہ وہ رسی اُس پر ہوتی ہے “ ۔ راوی کہتے ہیں : اس سے مراد وہ رسی تھی ۔ میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ” صحیح “ میں ” مرفوع “ حدیث کے طور پر اختصار کے ساتھ منقول ہے ، یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3575
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح