حدیث نمبر: 3569
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ بَيْتِ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ فَوَقَفَ عَلَى الْبَابِ فَقَالَ : " مَا لَكِ يَا كَحِيلَةُ مُتَبَذِّلَةٌ ؟ أَلَيْسَ عُثْمَانُ شَاهِدًا ؟ " قَالَتْ : بَلَى وَمَا اضْطَجَعَ عَلَى فِرَاشٍ مُنْذُ كَذَا وَكَذَا وَيَصُومُ النَّهَارَ فَلَا يُفْطِرُ فَقَالَ : " مُرِيهِ أَنْ يَأْتِيَنِي " فَلَمَّا جَاءَ قَالَتْ لَهُ فَانْطَلَقَ إِلَيْهِ فَوَجَدَهُ فِي الْمَسْجِدِ فَجَلَسَ إِلَيْهِ فَأَعْرَضَ عَنْهُ ، فَبَكَى ثُمَّ قَالَ : قَدْ عَلِمْتُ أَنَّهُ قَدْ بَلَغَكَ عَنِّي أَمْرٌ ! قَالَ : " أَنْتَ الَّذِي تَصُومُ النَّهَارَ وَتَقُومُ اللَّيْلَ لَا يَقَعُ جَنْبُكَ عَلَى فِرَاشٍ ؟ " قَالَ عُثْمَانُ : قَدْ فَعَلْتُ ذَلِكَ أَلْتَمِسُ الْخَيْرَ ! فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لِعَيْنِكَ حَظٌّ وَلِجَسَدِكَ حَظٌّ ، فَصُمْ وَأَفْطِرْ وَنَمْ وَقُمْ وَائْتِ زَوْجَكَ فَإِنِّي أَنَا أَصُومُ وَأُفْطِرُ وَأَنَامُ وَأُصَلِّي وَآتِي النِّسَاءَ فَمَنْ أَخَذَ بِسُنَّتِي فَقَدِ اهْتَدَى ، وَمَنْ تَرَكَهَا ضَلَّ ، وَإِنَّ لِكُلِّ عَمَلٍ شِرَّةً وَلِكُلِّ شِرَّةٍ فَتْرَةٌ فَإِذَا كَانَتِ الْفَتْرَةُ إِلَى الْغَفْلَةِ فَهِيَ الْهَلَكَةُ وَإِذَا كَانَتِ الْفَتْرَةُ إِلَى الْفَرِيضَةِ فَلَا يَضُرُّ صَاحِبَهَا شَيْئًا ، فَخُذْ مِنَ الْعَمَلِ مَا تُطِيقُ فَإِنِّي إِنَّمَا بُعِثْتُ بِالْحَنِيفِيَّةِ السَّمْحَةِ فَلَا تُثْقِلْ عَلَيْكَ عِبَادَةَ رَبِّكَ لَا تَدْرِي مَا طُولُ عُمُرِكَ ؟ " رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤ قُلْتُ : وَتَأْتِي أَحَادِيثُ تُشْبِهُ هَذَا فِي النِّكَاحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کے گھر سے باہر نکلے اور دروازے پر ٹھہر گئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے کہیلہ ! تمہیں کیا ہوا ہے ؟ تمہاری حالت اتنی خراب کیوں ہے ؟ کیا عثمان گھر میں موجود نہیں ہے ؟ اس خاتون نے عرض کی : جی ہاں ! وہ اتنے ، اتنے عرصے سے کبھی بستر پر لیٹے نہیں ہیں ( یعنی رات بھر نفل پڑھتے رہتے ہیں ) ، وہ دن کے وقت نفلی روزہ رکھ لیتے ہیں ، کوئی روزہ ترک نہیں کرتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اس سے کہنا کہ وہ میرے پاس آئے ، جب سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ ( گھر ) آئے ، تو اس خاتون نے انہیں بتایا ( کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو یاد کیا ہے ) وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف روانہ ہوئے ، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد میں پایا ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر بیٹھ گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے منہ پھیر لیا ، وہ رونے لگے اور پھر انہوں نے کہا: مجھے یہ بات پتہ چل گئی ہے کہ میرے بارے میں کوئی بات آپ تک پہنچی ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تم ہی وہ شخص ہو ، جو دن کے وقت روزہ رکھ لیتے ہو اور رات بھر نفل پڑھتے رہتے ہو ؟ اور رات بھر اپنا پہلو بستر پر نہیں رکھتے ہو ؟ سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ نے عرض کی : میں نے بھلائی کے حصول کے لئے ایسا کیا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تمہاری آنکھ کا بھی حصہ ہے ، تمہارے جسم کا بھی حصہ ہے ، تمہاری بیوی کا بھی حصہ ہے ، تم ( نفلی ) روزہ رکھا بھی کرو اور ترک بھی کر دیا کرو ، سو بھی جایا کرو اور نقل بھی پڑھ لیا کرو ، اپنی بیوی کے پاس بھی جایا کرو ، میں ( نفلی ) روزہ رکھتا بھی ہوں ، اور ترک بھی کر دیتا ہوں ، سوتا بھی ہوں ، اور ( نفل ) نماز بھی پڑھ لیتا ہوں ، اور خواتین کے ساتھ بھی رہتا ہوں ، جو شخص میری سنت کو اختیار کرے گا ، وہ ہدایت حاصل کر لے گا ، اور جو شخص اُسے ترک کرے گا ، وہ گمراہ ہو جائے گا ، ہر عمل میں ایک چستی ہوتی ہے اور ہر چستی میں سستی آ جاتی ہے ، تو جس شخص کی سستی غفلت کی طرف ہو گی ، تو یہ ہلاکت ہو گی ، اور جب سستی فرض کی طرف ہو گی ، تو پھر ایسا کرنے والے کو وہ کوئی نقصان نہیں پہنچائے گی ، تم اتنا عمل کرو ، جتنی تم طاقت رکھتے ہو ، کیونکہ مجھے بالکل سیدھے اور آسان راستے کے ہمراہ مبعوث کیا گیا ہے ، تم اپنے اوپر ، اپنے پروردگار کی عبادت کا بوجھ نہ لادو ، کیونکہ تم یہ نہیں جانتے کہ تمہاری عمر کتنی طویل ہو گی ؟ “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی علی بن یزید ہے ، اور وہ ضعیف ہے ، میں یہ کہتا ہوں : کچھ احادیث ، جو اس روایت سے مشابہہ ہیں ، وہ نکاح سے متعلق باب میں آئیں گی ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3569
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف