مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
أبواب العيدين— عیدین سے متعلق ابواب
بَابُ الِاقْتِصَارِ فِي الْعَمَلِ وَالدَّوَامِ عَلَيْهِ . باب: مختصر عمل کرنا ، لیکن باقاعدگی سے کرنا
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : ذُكِرَ عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَوْمًا يَجْتَهِدُونَ فِي الْعِبَادَةِ اجْتِهَادًا شَدِيدًا فَقَالَ : " تِلْكَ ضَرُورَةُ الْإِسْلَامِ وَشِرَّتُهُ وَلِكُلِّ عَمَلٍ شِرَّةٌ فَمَنْ كَانَتْ فَتْرَتُهُ إِلَى اقْتِصَادٍ فَنِعْمَ مَا هُوَ ، وَمَنْ كَانَتْ فَتْرَتُهُ إِلَى الْمَعَاصِي فَأُولَئِكَ هُمُ الْهَالِكُونَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَأَحْمَدُ بِنَحْوِهِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ وَقَدْ قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ : حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ فَذَهَبَ التَّدْلِيسُ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کچھ لوگوں کا ذکر کیا گیا ، جو بہت اہتمام کے ساتھ عبادت کرتے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ اسلام کی ضرورت اور اس کے لیے نشاط ( یعنی چاق و چوبند ہونا ) ہے ، اور ہر نشاط میں کسلمندی آ جاتی ہے ، تو جس شخص کا ( کسلمندی کی وجہ سے عمل کو ) ترک کرنا ، میانہ روی کی طرف ہو گا ، تو یہ اچھی چیز ہو گی ، اور جس شخص کا ( کسلمندی کی وجہ سے عمل کو ) ترک کرنا گناہ کی طرف ہو گا ، تو یہی لوگ ہلاکت کا شکار ہونے والے ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، امام أحمد نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال ” ثقہ “ ہیں ، ابن اسحاق نے یہ بات بیان کی ہے : ابوزبیر نے مجھے حدیث بیان کی ، تو اس طرح تدلیس ختم ہو جاتی ہے ۔