مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
أبواب العيدين— عیدین سے متعلق ابواب
بَابُ الِاقْتِصَارِ فِي الْعَمَلِ وَالدَّوَامِ عَلَيْهِ . باب: مختصر عمل کرنا ، لیکن باقاعدگی سے کرنا
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كَانَتْ مَوْلَاةٌ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَصُومُ النَّهَارَ وَتَقُومُ اللَّيْلَ فَقِيلَ لَهُ : إِنَّهَا تَصُومُ النَّهَارَ وَتَقُومُ اللَّيْلَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ لِكُلِّ عَمَلٍ شِرَّةً وَالشِّرَّةُ إِلَى فَتْرَةٍ فَمَنْ كَانَتْ فَتْرَتُهُ إِلَى سُنَّتِي فَقَدِ اهْتَدَى وَمَنْ كَانَتْ فَتْرَتُهُ إِلَى غَيْرِ ذَلِكَ فَقَدْ ضَلَّ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک کنیز تھی ، جو دن کے وقت روزہ رکھا کرتی تھی ، اور رات کے وقت نوافل پڑھا کرتی تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی گئی : وہ دن کے وقت روزہ رکھتی ہے ، اور رات کو نفل پڑھتی رہتی ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ہر عمل میں ایک اہتمام ہوتا ہے ( یعنی آدمی اس کے لیے چاق و چوبند ہوتا ہے ، ) اور ہر اہتمام میں فرق ( یعنی کزوری یا کاہلی کا پہلو ) آ جاتا ہے ، تو جس شخص کا فرق ، میری سنت کی طرف ہو گا ، وہ ہدایت حاصل کر لے گا ، اور جس شخص کا فرق اس کے علاوہ ہو گا ، وہ گمراہ ہو جائے گا “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔